پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات پر پیش رفت کی یقین دہانی پر راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب اپنے اعلان کردہ لانگ مارچ کو 21 جولائی تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ فیصلہ کور کمیٹی کے متفقہ مشورے سے کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان سے آنے والی ایک اہم شخصیت کے نمائندے نے تنظیم کے وفد سے ملاقات کی اور مطالبات کے حل کے حوالے سے یقین دہانی کروائی، جس کے بعد لانگ مارچ کو وقتی طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اس سے قبل تنظیم نے اپنے مطالبات کے حق میں مقامی حکومت کو بدھ کی دوپہر دو بجے تک کی مہلت دی تھی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ لانگ مارچ کو چند روز کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم راولاکوٹ کے مختلف مقامات پر جاری دھرنے بدستور برقرار رہیں گے۔
دوسری جانب راولاکوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس امر کی تصدیق کی کہ تنظیم نے اپنا لانگ مارچ فی الحال مؤخر کر دیا ہے۔
تاہم انتظامیہ کے اہلکار نے تنظیم اور حکومتی نمائندوں کے درمیان کسی قسم کے مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے بدھ کی دوپہرراولاکوٹ سے مظفر آباد کے لیے مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور حکام کے مطابق اس تناظر میں رینجرز، پولیس اور ایف سی کے چار ہزار اہلکار پہلے ہی کشمیر پہنچ چکے ہیں۔
کمیٹی کے ایک رکن کے مطابق اس تاخیر کی وجہ مذاکراتی عمل ہے جس کے نتیجے کی بنیاد پر ہی آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
بُدھ کے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عابد شاہین نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’اعلی سطح کے مذاکرات‘ کی وجہ سے یہ مارچ روکا گیا۔
تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ احتجاج ختم کرنے کے لیے یہ مذاکرات کس سطح پر ہو رہے ہیں نہ ہی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی معلومات دی گئیں۔
عابد شاہین کا مزید کہنا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے اگلے لائحۂ عمل کا اعلان ان مذاکرات کے نتیجے پر منحصر ہے۔
دوسری جانب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈنگ رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے لانگ مارچ موخر کرنے کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کشمیری سے عوام اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر چلائے جانے والے بے بنیاد پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔ یہ سب وُہی پیجز ، چینلز ہیں جو پچھلے ایک ماہ سے کشمیری عوام پر الزامات لگاتے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارا اتحاد ہی ہماری طاقت ہے، ہم نے لانگ مارچ منسوخ نہیں کیا، بلکہ مزاکرات کیلئے ایک بار پھر موقع دیا ہے۔ ہم پُرامن لوگ ہیں ، ہم اپنے 38 مطالبات پر عمل درآمد چاہتے ہیں لیکن چند لوگوں نے ہماری اس پاک جدوجہد پر جو الزامات لگائے وہ کسی صورت امن نہیں چاہتے ۔
ایکشن کمیٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سیاسی عزائم کیلئے خون خرابہ چاہتے ہیں جبکہ ہم کشمیری خود کو کسی ایسی چال کا ایندھن نہیں بننے دیں گے۔ہمیں اچھے کی اُمید رکھنی ہے اور اس کے ساتھ اپنے دھرنوں میں ثابت قدم رہنا ہے۔ پُرامن رہ کر اپنے مطالبات پر عمل درآمد کروائیں گے ۔اگر مطالبات پر عمل درآمد نہ ہوا تو لانگ مارچ بغیر کسی تاخیر کے شروع کیا جائے گا۔
Share this content:


