بلاول بھٹو حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو نعروں کے بجائے عملی اقدامات کریں، واجد علی ایڈووکیٹ

ہجیرہ/ کاشگل نیوز

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے چیئرمین واجد علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری واقعی عوام کے حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں تو اس کا اظہار صرف انتخابی جلسوں کے نعروں سے نہیں بلکہ عملی سیاست اور حکومتی اقدامات سے بھی ہونا چاہیے۔

اپنے ایک بیان میں واجد علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری آج ڈوڈیال، جموں کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب کر رہے ہیں، تاہم عوام کے سامنے اصل سوال یہ ہے کہ جب بنیادی حقوق، وسائل پر عوامی اختیار اور جمہوری آزادیوں کا مطالبہ کرنے والی تحریکوں کو مقدمات، گرفتاریوں اور طاقت کے استعمال کا سامنا کرنا پڑے تو حقِ حکمرانی کے دعووں کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت عوامی حقِ حکمرانی اور حقِ ملکیت کی حمایت کا دعویٰ کرتی ہے جبکہ دوسری جانب اسی جماعت کے دورِ حکومت میں عوامی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا گیا، جو ایک واضح سیاسی تضاد ہے۔

واجد علی ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر کے عوام نے مختلف عوامی تحریکوں کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی حقوق، سماجی انصاف اور جمہوری آزادیوں کے لیے منظم اور پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ مزدور، کسان، طلبہ، نوجوان، خواتین اور دیگر طبقات کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں جمہوری شعور موجود ہے اور عوام اپنے مسائل کا حل اجتماعی جدوجہد اور عوامی شرکت میں دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حقِ ملکیت اور حقِ حکمرانی کا مطلب صرف ووٹ ڈالنے کا حق نہیں بلکہ عوام کو اپنی زمین، وسائل، معیشت اور سیاسی مستقبل پر حقیقی اختیار حاصل ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر فیصلے عوام کی خواہشات کے بجائے طاقتور طبقوں کے مفادات کے مطابق کیے جائیں تو جمہوریت محض ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتی ہے۔

چیئرمین جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی نے کہا کہ ریاست کو عوامی معاشی، سماجی اور سیاسی مطالبات کو صرف امن و امان کا مسئلہ بنانے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ وسائل، زمین، بجلی، پانی اور معیشت پر اختیار کس کے پاس ہے اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کس طبقے تک محدود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جموں کشمیر میں حقِ حکمرانی کی جدوجہد کو صرف آئینی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی اور معاشی سوال کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب اختلافِ رائے کا احترام کیا جائے، عوامی حقوق کو تسلیم کیا جائے اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے، جمہوری عمل اور عوامی مینڈیٹ کے ذریعے تلاش کیا جائے۔

Share this content: