اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حالیہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
جنیوا میں میڈیا بریفنگ کے دوران یو این ہیومن رائٹس کے ترجمان جیرمی لارنس نے ہائی کمشنر کا خصوصی پیغام جاری کیا ہے۔
ترجمان جیرمی لارنس کا کہنا تھا کہ خطے میں 27 جولائی کو ہونے والے قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل بدامنی کی لہر جاری ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، جون سے لے کر اب تک ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار شامل ہیں۔
ہائی کمشنر وولکر ترک نے زور دیا ہے کہ احتجاجی مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سمیت ہونے والی تمام ہلاکتوں کی فوری، جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
ترجمان نے کہا کہ تاجروں، ٹرانسپورٹرز، طلبہ، وکلاء اور سول سوسائٹی کے کارکنوں پر مشتمل احتجاجی تحریک "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC)” کو پبلک آرڈر اور سیکیورٹی کے مبینہ خطرات کا عذر بنا کر انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت کالعدم قرار دے دیا گیا ہے، اور تنظیم کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان جیرمی لارنس نے خبردار کیا کہ کسی سول سوسائٹی کی تنظیم کو مجرم قرار دینا اور پرامن اجتماعات پر سخت پابندیاں عائد کرنا آزادیِ اظہارِ رائے، پرامن احتجاج اور تنظیم سازی کے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ زیرِ حراست جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کو ان کے اہل خانہ اور قانونی نمائندگی (وکلاء) تک فوری رسائی دی جائے، اور ان کے خلاف شفاف قانونی کارروائی اور منصفانہ ٹرائل کے حقوق کی مکمل ضمانت فراہم کی جائے۔
جنیوا میں بریفنگ کے دوران ترجمان نے خطے میں مواصلاتی بلیک آؤٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کے اس نازک وقت میں انٹرنیٹ پر پابندیاں معلومات کے حصول، ترسیل اور آزادیِ اظہارِ رائے کے حق کو شدید متاثر کرتی ہیں۔
انہوں نے حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ پورے خطے میں انٹرنیٹ سروسز کو فوری اور مکمل طور پر بحال کیا جائے۔
ترجمان جیرمی لارنس کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے خطے کے بنیادی مسائل اور مقامی آبادی کے دیرینہ تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک بامعنی، تعمیری اور ہمہ جہت سیاسی مذاکرات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ صورتحال کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔
Share this content:


