کشمیر میں انٹرنیٹ بندش کو 43 جبکہ شٹر ڈاؤن و پہیہ جام احتجاج کو 38 روز مکمل

مظفرآباد/ کاشگل نیوز

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری انٹرنیٹ سروس کی بندش کو آج 43 روز جبکہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام احتجاج کو 38 روز مکمل ہو گئے ہیں، جس کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

طویل عرصے سے انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے باعث طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد، تاجر اور عام شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ تعلیمی سرگرمیوں، آن لائن کاروبار، سرکاری و نجی امور اور عوامی رابطوں پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے باعث کاروباری مراکز، بازاروں اور ٹرانسپورٹ کی بندش سے عوام کو روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہے، جبکہ تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کے باعث حکومت کو بھی اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا ہونے کی اطلاعات ہیں۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام بنیادی سہولیات اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ سیاسی قیادت انتخابی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دے رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، انٹرنیٹ سروسز بحال کی جائیں اور معمولاتِ زندگی کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

Share this content: