بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے سوررینج میں واقع ایک کوئلہ کان میں میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں 42 کانکن کان کے اندر پھنس گئے جبکہ ریسکیو کارروائی کے دوران اب تک 34 کانکنوں کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔
محکمہ مائنز اور پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق جمعرات کی سہ پہر پیش آنے والے دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم کان کے اندر زہریلی گیس کی موجودگی اور جدید ریسکیو آلات کی کمی کے باعث آپریشن کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں پھنسے ہوئے دیگر کانکنوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔
دوسری جانب کان مزدور تنظیموں نے ایک بار پھر کانوں میں حفاظتی اقدامات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں کانکنی کے شعبے میں حفاظتی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایسے حادثات بار بار پیش آ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 2025 کے دوران کوئلہ کانوں میں پیش آنے والے مختلف حادثات میں 89 کانکن جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ بلوچستان میں کوئلہ کانوں کے حادثات کی شرح ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔
Share this content:


