وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی لاہورآمد پر پنجاب بھر میں 5 روز کے لیے دفعہ 144 نافذ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج دوپہر دو بجے لاہور پہنچیں گے۔تاہم حکومت پنجاب نےا س کے ردعمل میں پنجاب بھر میں پانچ روز کے لئے دفعہ 144 نافذ کیا ہے ۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حالیہ اپنے ایک بیان میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو پنجاب کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہپنجاب کو ہمسامہ ممالک سے نہیں ان دونوں صوبوں سے بڑا خطرہ ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق وزیر اعلیٰ اپنے دورۂ لاہور کے دوران گذشتہ روز وفات پانے والے پارٹی کارکن اشتیاق خان کی رہائش گاہ جا کر اہل خانہ سے ملاقات اور تعزیت کریں گے۔ اس کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ میں وکلا، تنظیمی عہدیداران اور خواتین ونگ سے خطاب کریں گے۔

دورے کے شیڈول کے مطابق وہ داتا دربار پر حاضری بھی دیں گے اور بعد ازاں لانگ مارچ کی مہم کے سلسلے میں لبرٹی چوک اور لاہور کی مختلف مارکیٹوں کا دورہ کریں گے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں پانچ روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

ترجمان محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق حکومت نے صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، جس کے تحت عوامی مقامات، شاہراہوں اور کھلی جگہوں پر پانچ یا اس سے زائد افراد کے اجتماع، جلوس یا اکٹھ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محکمۂ داخلہ پنجاب کے مطابق عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پر بھی پابندی ہو گی، جبکہ غیر قانونی اجتماعات میں لوگوں کو شرکت کے لیے اکسانے یا ترغیب دینے کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

ترجمان محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نماز جنازہ، تدفین، مساجد اور دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہو گا۔ اسی طرح عدالتیں، سرکاری ادارے اور باقاعدہ اجازت سے منعقد ہونے والی تقریبات بھی اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

محکمۂ داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جانب سے فوری نوعیت کے خطرات سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

ترجمان محکمۂ داخلہ کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں؛ اندیشہ ہے کہ بڑے اجتماعات، جلسے، ریلیاں، دھرنے اور جلوس ممکنہ حملوں کا ہدف بن سکتے ہیں۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ لاہور کے مطابق دفعہ 144 کے نفاذ پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لبرٹی چوک اور جی پی او چوک پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ روز پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کی گرفتاری کے لیے میاں محمود الرشید اور این اے 120 سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈر عثمان حمزہ اعوان سمیت متعدد رہنماؤں کے گھروں اور ڈیروں پر چھاپے مارے گئے۔

پی ٹی آئی کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت ان کی نظر بندی کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔

Share this content: