پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رکن قانون ساز اسمبلی خواجہ فاروق احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ بدھ کی شام چھ نامعلوم افراد نے ان کے گھر پر بغیر سرچ وارنٹ چھاپہ مارا اور ان کی تلاش کی کوشش کی۔
جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ چھاپہ مارنے والے افراد میں سے چار نقاب پوش تھے جبکہ دو افراد کے چہرے کھلے ہوئے تھے۔
ان کے مطابق جب یہ کارروائی ہوئی تو وہ گھر پر موجود نہیں تھے، تاہم گھر کی تلاشی لی گئی۔
خواجہ فاروق احمد نے کہا کہ "اگر میں بطور رکن اسمبلی اپنا تحفظ نہیں کر سکتا تو آزاد کشمیر کی عوام کو کیا تحفظ دوں گا۔”
انہوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوامی نمائندوں کے ساتھ ایسے واقعات باعث تشویش ہیں۔
خواجہ فاروق احمد کا شمار پاکستان زیر انتظام کشمیر کی ابتدائی سیاسی تاریخ کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ خطے میں 1974 میں پہلی مرتبہ پارلیمانی نظام نافذ کیا گیا، جس کے بعد مارچ 1974 میں پہلی قانون ساز اسمبلی وجود میں آئی۔ خواجہ فاروق احمد اس پہلی اسمبلی کے رکن بھی رہے ہیں۔
وہ قائم مقام وزیراعظم پاکستان زیر انتظام کشمیر اور قائد حزب اختلاف کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔
Share this content:


