پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 27 ستمبر کو وفاقی دار الحکومت کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی اقدامات سخت کرتے ہوئے شہر میں داخل ہونے والے اہم راستوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھنا شروع کر دیے ہیں۔
اسلام آباد پولیس حکام کے مطابق کنٹینرز حفاظتی نقطۂ نظر سے لگائے گئے ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اس وقت تقریباً ڈیڑھ سو کنٹینرز انتظامیہ کے پاس موجود ہیں، جنھیں صورتحال کے مطابق اہم شاہراہوں پر رکھا جائے گا تاکہ مظاہرین کو اسلام آباد داخل ہونے سے روکا جا سکے۔
اسلام آباد پولیس کے اہلکار کا کہنا ہے کہ کنٹینرز کو 26 نمبر چونگی، روات اور مارگلہ ایوینیو سمیت دیگر اہم شاہراہوں کے کناروں پر رکھا گیا ہے۔
وفاقی دار الحکومت میں دفعہ 144 پہلے ہی نافذ ہے، جبکہ پنجاب حکومت نے بھی صوبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔
دوسری جانب راولپنڈی کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ راولپنڈی ڈویژن سے تعلق رکھنے والے متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کو خدشہ نقص امن کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ابتدائی طور پر بعض کارکنوں کو اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، تاہم بعد میں انھیں اٹک جیل بھیج دیا گیا۔
راولپنڈی ضلعی انتظامیہ کے اہلکار نے تو حراست میں لیے گئے کارکنان کی تعداد نہیں بتائی، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ ضلع راولپنڈی سے اس کے 13 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔
انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد کارکن روپوش ہو گئے ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ادھر جماعت اسلامی نے بھی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے معاملے پر حکومتی وفد اور جماعت اسلامی کی قیادت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں، تاہم اب تک کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
Share this content:


