تحریر: فرحان طارق
دنیا بھر میں اس سال ‘عالمی یومِ جمہوریت’ کی مناسبت سے ایک ایسے خطے کو "World’s Best Democracy” کے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے، جہاں بادشاہت کے مقابلے میں مقتدرہ کی "لاڈلی جمہوریت” جلوہ گر ہوئی۔ یہ عوامی حکمرانی کا کوئی حقیقی طرزِ انداز نہ تھا، بلکہ ہندوستان میں نوآبادیاتی دور کی مانند لغاریوں اور مزاریوں کو وفاداری کے بدلے تحفے میں ملی جمہوریت کی ایک شکل تھی۔ اس خطے میں چوہدریوں، راجوں، جٹوں، مغلوں اور عباسیوں کا نمائندہ کہلانے والوں کو اقتدار سونپ کر اور خون کی ہولی کھیل کر اس نام نہاد جمہوریت کا افتتاح کیا گیا۔
یہ دنیا کا ایک انوکھا جمہوری ڈھانچہ ہے، جسے نوآبادیاتی دور میں ایک تقسیم کار کمشنر نے ترتیب دیا اور ‘آپریشن گلمرگ’ کے ذریعے عملی جامہ پہنایا گیا۔ بساط پر بچھائے گئے مہروں نے غیروں کی ایماء پر اپنی ہی دھرتی اور اپنے ہی لوگوں کے ساتھ وہ خونی کھیل کھیلا جس کی ہولناک جھلک آج بھی دکھائی دیتی ہے۔
تاہم، سال 2026ء میں منعقد ہونے والے انوکھے عام انتخابات نے اس خطے کے تمام جمہوری نظام کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں نے ان انتخابات کو "بندوق کی نوک پر ہونے والے الیکشن” قرار دیا، جبکہ عوام کی جانب سے ووٹنگ کا تناسب انتہائی کم رہا۔ یہ خطے کی تاریخ میں پہلی بار تھا کہ عوام نے انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود، تمام آئینی و جمہوری ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، تین مراحل اور سات حلقوں کے ذریعے الیکشن کا عمل پورا کرایا گیا اور مسندِ اقتدار پر ایک ایسے شخص کو بٹھا دیا گیا جسے عوام مکمل طور پر مسترد کر چکے تھے۔
خیر، یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اقتدار کے اس "جہاد” میں ماضی میں بھی کئی "مجاہدین” اپنا منفی کردار ادا کر چکے ہیں۔ منافع کی خواہش، اختیار کی ہوس اور آنے والی نسلوں میں اقتدار کی منتقلی کی خاطر خطے کی سیاسی اشرافیہ نے انسانوں پر نت نئے تجربات اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دے کر سامراجی سوچ کو فروغ دیا اور اپنے لیے اقتدار کا حصول یقینی بنایا۔
31 دسمبر 1600ء کو برطانیہ کی ملکہ ایلیزبیتھ اول نے چند تاجروں کو ایک چارٹر دیا تھا، جس کے تحت انہیں مشرقی ممالک کے ساتھ تجارت کی خصوصی اجازت دی گئی۔ تاجروں کا یہ گروہ ایک ایسٹ انڈیا کمپنی سے تعلق رکھتا تھا، जिसने کئی صدیوں تک برصغیر پر حکمرانی کی اور ہندوستان کو بے دردی سے لوٹا۔
بالکل یہی صورتحال 1947ء میں اس خطے میں بھی پیش آئی۔ نوآبادیات کی تعمیر کے وقت بظاہر شخصی حکمرانی کے خلاف تحریک کا نام دیتے ہوئے اور جمہوریت کا راگ الاپتے ہوئے سامراج نے چند افراد پر مشتمل ایک نئی "کمپنی” قائم کی، جس کا انتظام و انصرام مقامی اور غیر مقامی افراد کے ہاتھوں میں دیا گیا۔ سات دہائیوں سے "فوجی سیمنٹ” کے استعمال سے یہ کمپنی، اس سے جڑے افراد اور ان کے قلعے بظاہر مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس نام نہاد مضبوط جمہوری ڈھانچے میں خود "جمہور” (عوام) ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ تین سے زائد بار عوامی ریفرنڈم اور احتجاج نے اگرچہ کمپنی کے ملازمین کو مسترد کیا ہے، مگر کچھ حلقے اب بھی بضد ہیں کہ یہی لوگ ان کے "مسیحا” ہیں اور ان سے انکار غداری کے زمرے میں آتا ہے۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ سرحدوں پر جنگ کا سماں ہو، شہروں میں قدرتی آفات ہوں یا سیاسی عدم استحکام— وقت کے یہ "مسیحا” کبھی عوام کے ساتھ دار پر کھڑے نظر نہیں آئے، ان کی آخری منزل ہمیشہ اسلام آباد ہی رہی۔
شاید پاکستان زیرِ انتظام کشمیر کے اسی "شاندار” جمہوری ڈھانچے سے متاثر ہو کر اب ‘عالمی یومِ جمہوریت’ کے موقع پر انگلستان، امریکہ اور یورپی یونین کے پارلیمانوں میں اس علاقے کے پارلیمانی نظام، انتخابات، اختیارات اور سیاسی قیادت کی "بے پناہ صلاحیتوں” پر بحث کی جا رہی ہے اور دنیا کو اس ماڈل کو اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے!
٭٭٭
Share this content:


