عوامی ایکشن کمیٹی رہنماؤں کے خاندانوں کے شناختی کارڈز بلاک

پاکستان زیرِ انتظام جموں کشمیر کے ضلع حویلی میں انتظامیہ اور عسکری اداروں کی جانب سے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے رہنماؤں اور ان کے اہل خانہ کو شدید سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے سرگرم ممبران مرتضیٰ شریف میر، وقار قمر میر اور فیصل جاوید میرکے اہل خانہ کے قومی شناختی کارڈز (CNICs) کو بلاک کر دیا گیا ہے۔

مقامی حلقوں اور انسانی حقوق کے فعال کارکناں نے شناختی کارڈز کی معطلی کو شہریوں کے شہری حقوق پر ڈاکا اور بدترین ریاستی جبر کا مکروہ ہتھکنڈا قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ پاکستان اور اس کے طاقتور عسکری و خفیہ ادارے (ISI) آزاد کشمیر میں سستے آٹے، منصفانہ بجلی ٹیرف اور بنیادی آئینی و سیاسی حقوق کے لیے جاری عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل غیر قانونی، غیر آئینی اور جارحانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ طاقت اور اختیارات کے بے دریغ استعمال کے باوجود حقوقِ تحریک سے جڑے رہنما اور عام شہری تمام تر ریاستی جبر کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں اور اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

تحریک سے وابستہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ انتقامی کارروائیوں، بلاکنگ اور خوف و ہراس پھیلانے کے ان اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایس آئی اور دیگر خفیہ ایجنسیوں کی تمام تر تزویراتی کارروائیاں عوامی اتحاد کے سامنے مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے شناختی کارڈز کی بلاکنگ کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کے فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے فاشسٹ اقدامات سے حقوق کی برحق جدوجہد کو دبایا نہیں جا سکتا۔

Share this content: