سپریم کورٹ سے سزائیں معطل ہونے کے بعد جیل سے نکلتے ہی ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتار

سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے 17، 17 سال قید کی سزائیں معطل کر کے رہائی کا حکم جاری کیے جانے کے چند ہی گھنٹوں بعد، انسانی حقوق کی معروف وکیل ایمان زینب مزاری حَضیر اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کو اڈیالہ جیل کے باہر سے دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔

اس سے قبل، جمعرات کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے انہیں 2، 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی آرڈر شیٹس پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ ہائی کورٹ میں سزا معطلی کی درخواستوں پر مسلسل تاخیر کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں کو جنوری 2026 میں پیکا (PECA) قانون کے تحت سوشل میڈیا پوسٹس کے تناظر میں 17، 17 سال کی سنگین سزائیں سنائی گئی تھیں اور وہ گزشتہ 8 ماہ سے قید میں تھے۔

عدالتی روبکار جاری ہونے اور اڈیالہ جیل راولپنڈی سے رہائی کے فوراً بعد، باہر پہلے سے منتظر اسلام آباد پولیس کی ٹیم (بسرپرستی ایس پی سٹی) نے دونوں کو دوبارہ حراست میں لے لیا اور نامعلوم سمت روانہ ہو گئی۔ پولیس کی جانب سے اس ناگہانی گرفتاری کی وجوہات یا نئے مقدمات سے متعلق کوئی سرکاری تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ طویل عرصے سے جبری لاپتہ افراد، بلوچ خاندانوں، اور غریب ریہاڑی بانوں کے مقدمات بلا معاوضہ لڑتے رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں نے ان کی بلاسود قید پر گہری تشویش ظاہر کی تھی۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود جیل کے دروازے سے ان کی دوبارہ گرفتاری کو قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا جا رہا ہے۔

Share this content: