پاکستان زیرِ انتظام کشمیر میں عوامی احتجاجی تحریک جاری، مختلف علاقوں میں مظاہرے اور گرفتاریاں

پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جاری دھرنا، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام تحریک 53ویں روز میں داخل ہو گئی ہے۔

کمیٹی کے مطابق احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران مختلف ڈویژنوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دعوے کے مطابق 5 جون سے اب تک پونچھ ڈویژن میں 98 کارکن جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ لگ بھگ ایک ہزار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اسی طرح میرپور ڈویژن میں 6 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ مظفرآباد ڈویژن میں 10 افراد کے ہلاک ہونے اور متعدد زخمیوں کو مختلف اسپتالوں اور میڈیکل کیمپوں میں منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ادھر گزشتہ دو روز کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق امریکہ، برطانیہ، نیپال، بنگلہ دیش سمیت پاکستان کے مختلف شہروں، جن میں کراچی، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں، ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔

کمیٹی کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران راولپنڈی اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے بعد سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں نوجوان اور خواتین بھی شامل ہیں۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ حکومت احتجاجی آوازوں کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ طاقت کے استعمال سے عوامی آوازیں دبانے کے بجائے مزید منظم ہوتی ہیں۔

Share this content: