جے کے پی این پی کا طلال چوہدری کے بیانات پر شدید ردِعمل، حقوق کی تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنا لغو اور جمہوری حقوق پر حملہ ہے

جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کے مرکزی ترجمان نے مظفرآباد سے جاری ایک رسمی پریس اعلامیے میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے الزامات کو بائلکل من گھڑت، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ طلال چوہدری نے آزاد کشمیر میں عوام کی حقوقِ تحریک کو بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں اور کراس بارڈر اسمگلنگ سے جوڑنے کا الزام عائد کیا تھا۔

ریاستی بیانیے کے جواب میں جے کے پی این پی کے ترجمان نے کہا کہ جموں کشمیر کے عوام کی شدید معاشی مشکلات اور حقوق کی جدوجہد کو سیکیورٹی کے زاویے سے دیکھنا ریاست کی خطرناک پالیسی ہے، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں۔ بجلی کے منصفانہ ٹیرف اور سستے آٹے کے لیے جاری پرامن عوامی جدوجہد کو "غیر ملکی پروکسی” یا "شدت پسند نیٹ ورک” کا نام دینا دراصل سیاسی اختلافِ رائے کو دبانے کا ایک حربہ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وفاقی وزیر نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ حکومت نے عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے اور 38 میں سے 37 مطالبات منظور کیے تھے۔ ہم سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر یہ واقعی کوئی "دہشت گرد جرم کا نیٹ ورک” تھا، تو ریاست کے اعلیٰ ترین حکام نے ان کے ساتھ مذاکراتی میز پر بیٹھ کر بات چیت کیوں کی؟ حکومتیں دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نہ تو آئینی حقوق پر بات کرتی ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ عوامی ویلفیئر پیکج طے کرتی ہیں۔

جے کے پی این پی نے "بے چہرہ عدالتوں” (Faceless Courts) کے قیام کے مطالبات اور سیاسی کارکنان کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے غلط استعمال کو مکمل طور پر مسترد کیا ہے۔ اگر ریاست کے پاس کسی فرد کے خلاف واقعی کوئی ثبوت موجود ہیں، تو انہیں کھل کر عام عدالتوں میں لایا جائے تاکہ ان کا شفاف ٹرائل ہو سکے۔ میڈیا ٹرائلز اور من گھڑت الزامات کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پارٹی جموں کشمیر کے عوام کے جمہوری و آئینی حقوق، احتجاج اور انتظامی احتساب کے مطالبات کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ چند انفردی مقدمات یا گرفتاریوں کی بنیاد پر پوری عوامی حقوق کی تحریک کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ہی اجتماعی سزا دی جا سکتی ہے۔

جے کے پی این پی نے حکمران اشرافیہ کو خبردار کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر عوام کے بنیادی اور جمہوری حقوق کو سلب کرنے سے خطے میں مزید بیگانگی، بے چینی اور سیاسی عدم استحکام جنم لے گا۔

Share this content: