بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے۔نوشکی ، مستونگ اور قلات کے بعداب سوراب اور خضدار میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ خضدار میں حکام نے شام کو دکانیں بند کرنے اور عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔
ضلعی انتظامیہ سوراب نے ضلع میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 6 اگست 2026 کی شام 6 بجے سے 8 اگست کی صبح 6 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا حکم دیتے ہوئے دکانیں اور کاروباری مراکز بند کرا دیے ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے تمام شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ مقررہ اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور سیکیورٹی ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اپنے کسی بھی ممکنہ نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے، جبکہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں قلات میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی حکام نے شہریوں کو حکم دیا ہے کہ کرفیو کے دوران گھروں سے باہر نکلنے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔
اس سے قبل مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بھی کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا، جبکہ زہری اور نوشکی میں گزشتہ کئی ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔
ادھر خضدار میں جمعرات کو تاجروں کو سرکاری حکام کی جانب سے شام کو دکانیں بند کرنے جبکہ عام عوام کو گھروں سے نہ نکلنے کے لیے کہا گیا۔
سیاسی اور تاجر رہنمائوں نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایک لحاظ سے خضدار اور قلات میں رات کا کرفیو لگا دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دونوں شہروں میں کرفیو نہیں لگایا گیا ہے تاہم حفظ ماتقدم کے طور پر دونوں شہروں میں رات کو لاک ڈائون ہوگا۔
کہا جارہا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور انجمنِ تاجران خضدار کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آج سے روزانہ شام 6:00 بجے کے بعد تمام بازار بند رہیں گے۔البتہ میڈیکل اسٹورز، کلینکس اور دیگر ہنگامی طبی سہولیات اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوں گی اور حسبِ معمول کھلی رہیں گی۔
تمام شہریوں، دکانداروں اور تاجروں سے گزارش ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور مکمل تعاون کریں۔
بلوچستان کے وزیر داخلہ ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے بلوچستان کے کسی شہر میں کرفیو کے نفاذ کا نوٹفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔
قلات میں مقامی لوگوں نے بتایا کہ شام کو انتظامیہ کی جانب سے بازار میں دکانوں کو بند کرایا گیا اور لوگوں کو کہا گیا کہ وہ رات کو اپنے گھروں سے نہیں نکلیں۔
قلات میں جے یو آئی کے مرکزی جنرل کونسل کے رکن حافظ قاسم لہڑی نے بتایا کہ شام کو 6 بجے دکانوں کو بند کرنے کا کہا گیا جبکہ رات کو ان کو بقول 10 بجے سے صبح 7 بجے تک لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کا کہا گیا۔
انھوں نے کہا کہ عملی طور پر قلات میں رات کا کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
قلات سے تعلق رکھنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما قادربخش مینگل نے بھی تصدیق کی کہ قلات میں مقامی حکام نے تاجروں کو بتایا گیا کہ وہ شام کو اپنی تجارتی سرگرمیاں بند کریں جبکہ رات کو یہ کہا گیا کہ لوگ گھروں سے نہ نکلیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طرح قلات کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کیا گیا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ یقیناً ان اقدامات سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایمرجنسی کی صورت میں لوگ اپنے مریضوں کو ہسپتال تک نہیں لے جاسکیں گے۔
انھوں نے کہا کہ ان قدامات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔
خضدار شہر میں بھی ایک سینیئر تاجر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ شہر میں انتظامیہ اور پولیس کے لوگ آئے اور تاجروں کو بتایا کہ وہ اپنی دکانوں کو بند کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے لوگوں نے اس کی وجہ سکیورٹی خدشات کو بتایا اور یہ کہا کہ کسی ایمرجنسی میں کاررواِئی کی صورت میں عام لوگوں کا نقصان نہ ہو۔
یک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا سکیورٹی خدشات ہیں جس کی وجہ سے حفظ ماتقدم کے طور پر دونوں شہروں میں شام کو لاک ڈائون کیا جارہا ہے۔
جب جمعرات کی شام تاجروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کے موقع پر صحافیوں نے وزیر داخلہ کی توجہ اس جانب دلائی گئی تو انھوں نے کہا کہ غیر ملکی ممالک کے ایما پر چند مٹھی بھر عناصر شرپسندی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور لوگ ان کی ان سرگرمیوں سے پریشان ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہائی ویز پر شرپسندی کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز کارروائی کریں گے اور جہاں کرفیو کی ضرورت پڑی تو وہاں کرفیو ہوگا،جہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کی ضرورت ہوئی وہاں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن اور جہاں مکمل فوجی آپریشن کی ضرورت ہوئی وہاں مکمل فوجی آپریشن ہوگا۔‘
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک کسی بھی شہر میں کرفیو کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں ہوا ہے۔
Share this content:


