پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام جاری عوامی تحریک کو مسلسل دوسرے ماہ بھی مکمل ہڑتال، ناکہ بندی اور سخت ریاستی کریک ڈاؤن کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے دوران جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز سادے کپڑوں میں ملبوس اپنے مسلح اہلکاروں کو نہتے مظاہرین میں شامل کر کے پرامن تحریک اور ایکشن کمیٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے انکشاف کیا کہ فورسز سادے کپڑوں میں مسلح افراد کو سویلین کے روپ میں مظاہرین کے اندر پلانٹ کر رہی ہیں، جو اندر سے فائرنگ کر کے نہتے شہریوں کو قتل کرتے ہیں۔ بعد ازاں انہی مسلح افراد کے ڈھکے ہوئے چہروں کے ساتھ ڈرون کیمروں سے مناظر فلم بند کر کے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ مظاہرین مسلح ہیں اور فورسز پر فائرنگ کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ایسے متعدد ویڈیوز موجود ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سادے کپڑوں مسلح افراد اپنا اسلحہ لہرا کر فورسز کے آگے آگے نہتے مظاہرین پر گولیاں چلا رہے ہیں۔
رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پرامن تحریک سے خوفزدہ ہو کر اسے مسلح ثابت کرنے اور "بھارتی فنڈنگ” کا الزام لگا کر مزید تشدد کا جواز تراشا جا رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جس طرح بلوچستان میں مقامی سطح پر مسلح گروہ یعنی "ریاستی ڈیتھ اسکواڈز” تشکیل دے کر سیاسی کارکنوں کو قتل اور جبری لاپتہ کیا جا رہا ہے، بالکل وہی لائحہ عمل اب کشمیر میں بھی دہرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ریاست پچھلے دو مہینوں سے مکمل طور پر بند ہے اور فوج کے شدید محاصرے میں ہے۔ فورسز کی کارروائیوں اور ناکہ بندی کے باعث سنگین صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران فورسز کی براہِ راست فائرنگ سے 50 سے زائد نہتے مظاہرین قتل کئے ہو چکے ہیں۔
فوج کے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو گرفتار اور سینکڑوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا چکا ہے۔
ادویات، اشیائے خورد و نوش اور روزمرہ کی ضروری اشیاء کی آمد و رفت کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے، جس سے انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیے جانے اور تمام تر سخت اقدامات کے باوجود عوامی تحریک کا سلسلہ نہیں تھم سکا۔ شدید ترین محاصرے کے باوجود خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت عام شہریوں کی بڑی تعداد گزشتہ دو ماہ سے شانہ بشانہ سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق اور ناانصافیوں کے خلاف پرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے۔
Share this content:


