نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے اچانک سیلاب کے باعث اموات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ سیلاب ہمالیہ میں برف تیزی سے پگھلنے کے باعث ایک گلیشیئر گرنے کی وجہ سے آیا۔
نیپال میں سیلاب کو آئے 60 گھنٹے سے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ زلزلے کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور اس کے بعد سیلاب آئے جس کے نتیجے میں اب تک 500 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔بعدازاں امریکی جیولوجیکل سروے نے وضاحت کی تھی کہ اس تباہی کی وجہ ’گلیشیئر کا گرنا‘ تھی۔ یہ وہ عمل ہے جس میں کوئی گلیشیئر یا اس کا کوئی حصہ ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔
نیپال کی ڈیزاسٹر ریلیف ایجنسی کے تازہ ترین بیان کے مطابق سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 579 ہو گئی ہے، جبکہ 2000 افراد تا حال لاپتہ ہیں، جن کی بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ادارے کے مطابق ان لاپتہ افراد میں 517 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ تاہم اس سے قبل نیپالی پولیس نے بتایا تھا کہ 575 غیر ملکی شہری لاپتہ ہیں، جن میں 33 برطانوی شہری بھی شامل ہیں۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق تبت میں پانچ افراد ہلاک اور 550 سے زائد لاپتہ ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان اعداد و شمار میں نیپال میں ہلاک یا لاپتہ ہونے والے افراد شامل ہیں یا نہیں۔
چینی حکام لینڈ سلائیڈنگ کے بعد بننے والی ایک عارضی جھیل کی نگرانی کر رہے ہیں۔ جھیل میں شگاف پڑنے اور مزید پانی کے اخراج کے خدشے کے باعث تلاش کی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی تھیں، تاہم بعد میں امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے اعداد و شمار اور اس واقعے کا تجزیہ کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق، گلیشیئر کے گرنے اور وادی کی تہہ سے ٹکرانے کا اثر اتنا شدید تھا کہ اس کی شدت 5.2 ریکارڈ کی گئی۔
یونیورسٹی آف ڈنڈی کے گلیشیئر ماہر ڈاکٹر سائمن کُک نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے نشاندہی کی ہے کہ نیپال میں ’لانگٹانگ لیرونگ‘ چوٹی کے قریب واقع ایک گلیشیئر کا نچلا حصہ منہدم ہوا تھا۔ یہ مقام سیلاب والے علاقے سے تقریباً 15 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔
اُنھوں نے اندازہ لگایا کہ گلیشیئر شمال مغربی سمت میں گرا اور پھر بہاؤ کی سمت میں مغرب کی جانب بڑھا۔
بین الحکومتی سائنسی ادارے ’انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ‘ کے ایک تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’زیادہ بلندی والے علاقے سے برف اور چٹانوں کا تودہ گرنے‘ کا واقعہ پیش آیا ہو گا۔
اس کے نتیجے میں ’برف اور چٹانی ملبے کی بھاری مقدار‘ بھوٹے کوشی دریا کی معاون ندی، ’لینڈے کھولا‘ میں داخل ہوئی جس سے دریا کے بہاؤ میں اچانک تیزی آ گئی اور پانی، تلچھٹ اور چٹانوں کے بڑے بڑے ٹکڑے بہتے ہوئے نچلے علاقوں کی جانب بڑھنے لگے۔
مرکز کے مطابق دریاؤں کے نچلے بہاؤ والے حصوں میں پانی کی سطح 30 منٹ کے اندر سات سے نو میٹر تک بلند ہو گئی اور پانی کی نگرانی کرنے والے کئی سٹیشن بہہ گئے یا انھیں نقصان پہنچا۔
بدھ کے روز نیپال میں دریائے بھوٹیکوشی میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے تین اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی تھی۔ اس آفت کے نتیجے میں 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں، غیر ملکی سیاحوں اور مقامی شہریوں سمیت سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔
سیلاب نے سڑکوں، پلوں، بجلی کے ڈھانچے اور آبادی والے علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا جس سے بھاری جانی و مالی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں نیپال میں آنے والی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے۔
نیپال کے سیاحتی بورڈ کے مطابق لاپتہ سیاحوں میں انڈیا کے 100 سے زائد، امریکہ کے 54، آسٹریلیا کے 34 اور برطانیہ کے 33 شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 100 سے زیادہ نیپالی شہری بھی لاپتہ ہیں۔ یہ علاقہ زائرین اور ٹریکنگ کرنے والوں میں بہت مقبول ہے۔
تبت میں چینی سرکاری میڈیا نے تین افراد کی ہلاکت اور 265 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تبت سے سامنے آنے والی سی سی ٹی وی ویڈیوز میں سرحدی گزرگاہ پر پانی اور کیچڑ کا ایک بڑا ریلا عمارتوں سے ٹکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
درجنوں نیپالی پولیس اہلکار، فوجی جوان اور بجلی کے محکمے کے ملازمین بھی لاپتہ ہیں۔
جبکہ دنیا بھر میں متعدد خاندان اب بھی اپنے عزیزوں کے بارے میں خبر کے منتظر ہیں۔
Share this content:

