مظفرآباد/ کاشگل نیوز
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ جعلی عام انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے دعویدار پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے، تاہم اس فیصلے پر جماعت کے اندر اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اعلان کیا کہ پارٹی قائد و صدر نواز شریف نے بیرسٹر افتخار علی گیلانی کو وزیر اعظم آزاد کشمیر کے عہدے کے لیے نامزد کیا ہے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر کا انتخاب اور حلف برداری کی تقریب 28 اگست کو قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل وزیر اعظم کے منصب کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی اور مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کے نام زیرِ غور تھے۔ بدھ کو وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں دونوں ناموں پر تفصیلی مشاورت ہوئی، جس کے بعد حتمی نامزدگی کا اختیار پارٹی صدر نواز شریف کو دیا گیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے اپنے اختیار کا استعمال کرتے ہوئے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم کے لیے نامزد کیا۔
تاہم بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) کے بعض اہم رہنما ناخوش ہیں۔ پارٹی کے ایک اہم عہدیدار کے مطابق شاہ غلام قادر کا مؤقف ہے کہ انہیں وزیر اعظم کے منصب کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے تھا، جبکہ سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی اس فیصلے سے خوش نہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر اسلام آباد میں مشاورت کر رہے ہیں اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق فیصلہ کر سکتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم خواجہ فاروق حیدر نے بھی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شاعرانہ انداز میں نام لیے بغیر موجودہ سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کیا۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر مشتاق منہاس نے تصدیق کی کہ نواز شریف نے بیرسٹر افتخار گیلانی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی اس لیے بھی تنقید کی زد میں ہے کہ وہ حالیہ عام انتخابات میں اپنی نشست ہار گئے تھے اور اس سے قبل 2021 کے انتخابات میں بھی کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ بعد ازاں مسلم لیگ (ن) نے انہیں ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشست پر قانون ساز اسمبلی کا رکن منتخب کروایا۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے عام انتخابات میں شکست کے باوجود مخصوص نشست کے ذریعے اسمبلی میں آنے والے رہنما کو وزیر اعظم کے منصب کے لیے نامزد کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اختلافات کے باوجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو فوری طور پر کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 32 ہے جبکہ وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے 27 ووٹ درکار ہیں۔
ان کے مطابق اطلاعات ہیں کہ شاہ غلام قادر اور خواجہ فاروق حیدر 28 اگست کے اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
دوسری جانب حکومت کو اقتدار سنبھالنے کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج، امن و امان کی صورتِ حال اور مختلف علاقوں میں جاری کشیدگی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔
ادھر آزاد کشمیر کے سات حلقوں میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے باعث عام انتخابات نہیں ہو سکے۔ ان حلقوں میں انتخابی عمل مکمل نہ ہونے کے باوجود خواتین، ٹیکنوکریٹس اور علما کی مخصوص نشستوں پر انتخابات کیے گئے۔
چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس ریٹائرڈ مصطفیٰ مغل کے مطابق عبوری آئین میں واضح ہے کہ اگر قانون ساز اسمبلی کی ایک یا ایک سے زیادہ نشستیں خالی ہوں تو اس سے اسمبلی کی کارروائی متاثر نہیں ہوتی، اس لیے مخصوص نشستوں کے انتخابات آئین کے مطابق ہوئے ہیں۔
یوں بیرسٹر افتخار گیلانی کی نامزدگی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اندر اختلافات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ 28 اگست کو قانون ساز اسمبلی میں وزیر اعظم کے انتخاب سے صورتِ حال مزید واضح ہو جائے گی۔
Share this content:


