پنجاب کو انڈیا اور افغانستان سے نہیں بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ سے زیادہ خطرہ ہے، مریم نواز

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے صوبائی انٹیلیجنس سینٹر کے افتتاح پر دیا گیا ایک متنازع بیان پاکستان بھر میں شدید سیاسی و سماجی تنازع کی وجہ بن گیا ہے۔

مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک (انڈیا، افغانستان ) کے بجائے اپنے پڑوسی صوبوں (بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ) سے زیادہ خطرہ ہے اور وہاں سے دہشت گردی پنجاب آتی ہے۔ ان کے اس بیان کو دیگر تینوں وفاقی اکائیوں کی تذلیل، احساسِ برتری اور پاکستان کو صرف "پنجاب” تک محدود سمجھنے کی ذہنیت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

لاہور میں ‘پرووینشل انٹیلیجنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر’ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا:

"افسوس کی بات یہ ہے کہ مجھے پنجاب کے لیے جو تھریٹ ہیں، وہ پڑوسی ممالک سے کم اور میرے پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہیں۔ ٹرائی بارڈر ایریاز اور دیگر صوبوں کی سرحدوں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب نے اربوں روپے کی اے آئی (AI) اور جدید ڈرون ٹیکنالوجی پر کام کر کے صوبے کی سرحدوں کو محفوظ بنایا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دیگر صوبوں کو امن و سیکیورٹی کے بجائے صرف خطرے کا سرچشمہ سمجھا جا رہا ہے۔

مریم نواز کے اس بیان کو چھوٹے صوبوں کے خلاف تعصب، غرور اور وفاقی اکائیوں کو نظرانداز کرنے کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے تمام صوبوں سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے:

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اس بیان کو انتہائی تعصب پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “تین وفاقی اکائیوں کو دہشت گردی کی بنیاد قرار دینا ملک کو مزید تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ مریم نواز کو انڈیا دوست لگتا ہے مگر پاکستان کے سرحدی صوبوں سے مسئلہ ہے۔”

اسد قیصر (سابق اسپیکر نے بیان کو ‘توہین آمیز’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے شہداء اور پولیس کی قربانیوں کی تضحیک کی گئی ہے۔

محسن داوڑ نے کہا کہ “جس دہشت گردی کو آج آپ پنجاب کے لیے خطرہ کہہ رہی ہیں، اس کے معمار آپ کی اپنی پنجابی اشرافیہ ہے۔ آپ صرف تپش محسوس کر رہی ہیں، ہم دہائیوں سے جل رہے ہیں۔”

رکن قومی اسمبلی بلوچستان جمال رئیسانی انہوں نے مریم نواز کے رویے پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا:
"پنجاب کو پڑوسی صوبوں اور وہاں کے لوگوں سے نہیں، بلکہ آپ کی (مریم نواز کی) سوچ سے خطرہ ہے۔ دیگر صوبوں کے شہریوں کی غیر ضروری پروفائلنگ کرنے سے گریز کریں۔”

صحافی بینظیر شاہ نے نشاندہی کی کہ ‘پنجاب’ بمقابلہ ‘دیگر صوبوں’ کی یہ زبان طویل عرصے سے جاری اُس احساسِ برتری اور غرور کو تقویت دیتی ہے جو چھوٹے صوبوں میں شدید ناانصافی اور محرومی کا باعث بنتا رہا ہے۔ انہوں نے اسے شہباز شریف کے اس پرانے بیان سے تشبیہ دی جس میں طالبان سے پنجاب کو بخش دینے کی اپیل کی گئی تھی۔

عمار علی جان نے کہا کہ مریم نواز کے ایسے نسل پرستانہ تبصرے ان عناصر کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جو ملک میں عدم استحکام اور نفرت چاہتے ہیں۔

دوسری جانب پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تنقید کرنے والے حقائق سے بے خبر ہیں، اور وزیراعلیٰ کی ترجیح جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سیکیورٹی اور گورننس کو یقینی بنانا ہے، جبکہ خارجہ امور وفاق کی ذمہ داری ہیں۔

Share this content: