بلوچستان : مستونگ میں قومی شاہراہ پر 9 مسخ شدہ لاشیں برآمد

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے جہاں دو مختلف مقامات سے کل 9 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پہلے مرحلے میں قومی شاہراہ کے قریب نالے سے 3 لاشیں ملی تھیں، جس کے بعد دتو موڑ کے قریب سے قومی شاہراہ پر مزید 6 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ان تمام افراد کو مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد لاشیں کھلے مقام پر پھینک دی گئی تھیں۔

ذرائع کے مطابق پہلی کارروائی میں ڈپٹی کمشنر ہاؤس کے قریب قومی شاہراہ سے ملحقہ نالے سے 3 لاشیں برآمد کی گئیں۔ اس واقعے کے فوراً بعد دتو موڑ کے قریب سڑک کنارے سے مزید 6 افراد کی لاشیں ملی ہیں (ابتدائی طور پر 5 لاشوں کی اطلاع تھی جو بعد میں بڑھ کر 6 ہو گئی)۔ یوں مستونگ میں برآمد ہونے والی لاشوں کی کل تعداد 9 تک پہنچ گئی ہے۔

دتو موڑ کے قریب برآمد ہونے والی لاشیں شہید نواب غوث بخش رئیسانی میموریل ہسپتال سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر پڑی تھیں۔ تاہم، ہسپتال انتظامیہ اور سی ای او نے سیکیورٹی خدشات کا بہانہ بنا کر ریسکیو ٹیمیں اور ایمبولینسز بھیجنے سے صاف انکار کر دیا۔

لاشیں گھنٹوں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں اور ان کے قریب آوارہ کتوں کے جھنڈ دیکھے گئے، جس سے میتوں کی شدید بے حرمتی ہوئی۔ سیکیورٹی فورسز اور عوام کی موجودگی کے باوجود ہسپتال انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے پر علاقے میں شدید بے چینی اور اشتعال پھیل گیا ہے۔ شہریوں نے سی ای او ہسپتال کے خلاف فوری انتظامی و قانونی کارروائی اور لاشوں کی شناختی کارروائی مکمل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مستونگ سے 9 لاشوں کی یہ ہولناک برآمدگی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ تین سے چار دنوں میں پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشنز کے دوران درجنوں (تقریباً 48) "مسلح افراد” کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا یہ دعویٰ اگست کے مہینے میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے ہمہ گیر حملوں، سیکیورٹی فورسز کو پہنچنے والے بھاری جانی نقصان اور سرکاری املاک کی تباہی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔

انسانی حقوق کے حلقوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فورسز اگست میں پہنچنے والے جانی نقصان اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ماضی کی روایت کو دہراتے ہوئے خفیہ عقوبت خانوں میں قید "جبری لاپتہ افراد” کو ماورائے عدالت قتل کر کے انہیں "جعلی مقابلوں” میں مارے جانے والے مسلح افراد کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستونگ سے برآمد ہونے والی یہ 9 لاشیں بھی پہلے سے لاپتہ کیے گئے بلوچ نوجوانوں کی ہو سکتی ہیں، کیونکہ مسلح آزادی پسند تنظیمیں اپنے ارکان کی ہلاکت کی صورت میں ان کی تفصیلات فوری طور پر اپنے باضابطہ ذرائع ابلاغ پر جاری کر دیتی ہیں۔

Share this content: