بلوچستان کے دو اضلاع چاغی اور دُکی میں دو الگ الگ واقعات میں ایک قبائلی رہنما سمیت کم از کم چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔
سرکاری حکام کے مطابق دُکی میں مارے جانے والے تین افراد افغان شہری تھے جو ایک قبائلی رہنما کی زرعی اراضی پر چوکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔
دُکی پولیس کے سربراہ منصور احمد بزدار نے تین افراد کے مارے جانے اور دو کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انھیں جھالار کے علاقے سے آگے ایک پہاڑی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد جھالار میں مقامی قبائلی رہنما سردار اکبر خان ناصر کی اراضی پر چوکیدار کے طور پر کام کر رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ مارے جانے والے اور لاپتہ ہونے والے تمام افراد کی شناخت ہو گئی ہے۔
تاہم انھوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
ایک اور سرکاری اہلکار نے بتایا کہ مارے جانے والے افراد کی شناخت افغان شہریوں کے طور پر ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دُکی ان علاقوں میں شامل ہے جہاں طویل عرصے سے بدامنی کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
گذشتہ اتوار کلی بختیار لونی کے قریب ایک بم حملے میں تین بھائی مارے گئے تھے جبکہ ایک اور شخص زخمی ہوا تھا۔
ادھر ضلع چاغی میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں قبائلی شخصیت ملک کریم داد محمد حسنی مارے گئے ہیں۔
چاغی میں ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملک کریم داد محمد حسنی کو صبح کے وقت چاغی بازار میں نامعلوم مسلح افراد نے حملے کا نشانہ بنایا۔
پولیس اہلکار کے مطابق اس واقعے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔
چاغی بلوچستان کا ایک سرحدی ضلع ہے اور اس کی سرحدیں افغانستان اور ایران دونوں سے ملتی ہیں۔
Share this content:


