بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے ماہیان کور میں واقع ایک نجی مائن (معدنیاتی کان) سے گزشتہ دنوں تحویل میں لیے گئے گلگت سے تعلق رکھنے والے چاروں افراد باحفاظت بازیاب ہو کر واپس پہنچ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بازیاب ہونے والوں میں وجاہت، واجد، شاہد اور صابر شامل ہیں، جنہیں گزشتہ روز بحفاظت ان کی رہائش گاہوں کی طرف روانہ کر دیا گیا۔
بلوچستان میں حکومتی رٹ شدید متاثر ہو چکی ہے اور قدرتی وسائل و معدنیات کے شعبے میں کام کرنے والی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں، مالکان اور ورکرز کو بلوچ آزادی پسندوں کی جانب سے مسلسل خبردار کیا جا رہا ہے۔ آزادی پسند تنظیموں کا موقف ہے کہ بلوچستان کی سرزمین اور یہاں کے عوام کی ملکیت قدرتی وسائل اور معدنیات کی نام نہاد "لوٹ کھسوٹ” کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس پالیسی کے تحت آزادی پسند قوتوں کی جانب سے معدنیاتی پروجیکٹس کی سیکیورٹی پر مامور سیکیورٹی فورسز کو مہلک حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ ان پروجیکٹس سے منسلک افراد اور کارکنوں کو بھی حراست میں لیا جاتا رہا ہے۔
آزادی پسند تنظیموں کے ذرائع اور میڈیا بیانات کے مطابق، حراست میں لیے گئے ایسے افراد یا مزدور جن کے بارے میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بے خبر ہیں یا انہیں نوکری کے نام پر دھوکہ دے کر بلوچستان لایا گیا ہے، انہیں ابتدائی تفتیش اور سخت تنبیہ کے بعد بحفاظت رہا کر دیا جاتا ہےجیسا کہ چاغی کے حالیہ واقعے میں دیکھا گیا۔
تاہم، جن افراد کی تفتیش میں یہ بات ثابت ہو جائے کہ وہ براہ راست فوج، سرمایہ داروں یا سیکیورٹی اداروں کی سہولت کاری میں ملوث ہیں، انہیں سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔
آزادی پسند تنظیمی ذرائع بارہا میڈیا کے ذریعے غیر ملکی افراداور دیگرصوبوں کے شہریوں کو تنبیہ کر چکے ہیں کہ وہ سیکیورٹی فورسز کی نام نہاد حفاظتی ضمانتوں اور دھوکے میں آ کر بلوچستان کا رخ نہ کریں، کیونکہ فورسز اور مالکان اپنے مفادات کے لیے عام شہریوں کو بے یارو مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔
Share this content:


