بدخشان میں افغان انٹیلی جنس کا گرینڈ آپریشن، مسلح تنظیم جنبش پاسدارانِ میہن کے خاتمے کا دعویٰ

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں افغان انٹیلی جنس کے گرینڈ آپریشنمیں جنبش پاسدارانِ میہن نامی مسلح باغی گروہ کووجود میں آنے کے محض 16 دن بعد ہی کچلنے کا دعویٰ کیا گیاہے۔

حکام کے مطابق صوبہ بدخشان کے حساس سرحدی و تزویراتی زون میں امارتِ اسلامی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) نے ایک انتہائی مربوط اور کامیاب کارروائی کے دوران نوزائیدہ مسلح باغی گروہ ‘جنبش پاسدارانِ میہن’ کا صوبے سے مستقل طور پر نام و نشان مٹا دیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس مسلح دھڑے نے محض 16 روز قبل ہی سوشل میڈیا پر ایک پروپیگنڈا ویڈیو ریلیز کر کے کابل حکومت کے خلاف عسکری بغاوت اور اپنے باقاعدہ وجود کا اعلان کیا تھا، تاہم اس سے پہلے کہ یہ گروہ اپنی تخریب کارانہ کارروائیاں شروع کرتا، افغان خفیہ اداروں نے نیٹ ورک کو ٹریس کر کے اس کے تمام کمانڈرز اور مسلح اراکین کو بھاری مقدار میں ہلکے اور بھاری عسکری اسلحہ و گولہ بارود سمیت زندہ گرفتار کر لیا۔

سکیورٹی ذرائع کے دعوے کے مطابق ‘جنبش پاسدارانِ میہن’ نامی اس گروہ کی کمانڈ سابقہ عسکری رجیم کے جنرل جلال یفتلی نامی مفرور افسر کے ہاتھ میں تھی، جو بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور بیرونِ ملک مقیم جنرل سمیع سادات اور احمد مسعود جیسے خودساختہ جلاوطن سیاسی باغیوں کے اشاروں پر افغانستان کو غیر مستحکم کرنے، مالی و سیاسی امتیازات اور فنڈز حاصل کرنے کے لیے بدخشان میں ایک نیا محاذ کھولنا چاہتا تھا۔

افغان انٹیلی جنس حکام نے کہا کہ یہ کابل کی کوئی پہلی کامیابی نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل صوبہ فاریاب میں بھی مفرور اپوزیشن کے ایک ایسے ہی نام نہاد مسلح فرنٹ کو اس کے وجود کے محض 20 دنوں کے اندر ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا تھا۔

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان بارڈر پر اس نوزائیدہ عسکری بغاوت کو چند ہی دنوں میں کچل دینا ثابت کرتا ہے کہ امارتِ اسلامی کا انٹیلی جنس اور بارڈر کنٹرول نیٹ ورک انتہائی مضبوط ہے۔

کہا جارہا ہے کہ یہ تیز رفتار کارروائی بدخشان کے نئے گورنر مولوی رحمت اللہ نجیب اور پولیس چیف عبدالبصیر مظہری کی اس تزویراتی پالیسی کی عکاس ہے، جس کے تحت سکیورٹی کو چیلنج کرنے والے باغیوں کا کابل کی ملٹری کورٹ میں کورٹ مارشل یقینی بنایا جا رہا ہے، جس سے ‘قومی مزاحمتی محاذ’ سمیت دیگر فرضی اپوزیشن فرنٹ اندرونی طور پر شدید اخلاقی و تنظیمی زوال کا شکار ہو چکے ہیں۔

Share this content: