گلگت / کاشگل نیوز
گلگت بلتستان کے بالائی علاقے درکوت بوحریک نالہ میں مبینہ طور پر بعض غیر مقامی افراد کی جانب سے قدرتی جڑی بوٹیوں کو بڑے پیمانے پر جمع کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے باعث علاقے کے قدرتی ماحول اور نباتاتی نظام کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ افراد میں بعض کا تعلق چلاس اور کوہستان سے بتایا جاتا ہے، جبکہ اطلاعات ہیں کہ وہ مقامی افراد کو مالی ترغیب دے کر علاقے میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ قدرتی جڑی بوٹیوں کے ساتھ قیمتی پتھروں اور دیگر معدنیات کے حصول کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ سرگرمیاں قانونی اجازت، نگرانی اور ماحولیاتی ضوابط کے بغیر جاری رہیں تو اس سے علاقے کے قدرتی وسائل کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کے لیے بھی سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
مقامی افراد نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ جنگلات، محکمہ معدنیات اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بوحریک نالہ میں ہونے والی سرگرمیوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اس کے علاوہ درکوت چیک پوسٹ پر آنے جانے والے افراد اور گاڑیوں کی مؤثر نگرانی اور قانونی تقاضوں کے مطابق چیکنگ یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ قدرتی وسائل کی ممکنہ غیر قانونی منتقلی اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی روک تھام کی جا سکے۔
مقامی حلقوں نے واضح کیا کہ معاملہ کسی مخصوص علاقے یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ درکوت کے قدرتی وسائل اور ماحول کے تحفظ سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق قدرتی جڑی بوٹیاں، قیمتی پتھر اور معدنی وسائل علاقے کی مشترکہ امانت ہیں اور ان کا تحفظ متعلقہ اداروں اور مقامی آبادی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Share this content:


