گلگت بلتستان : غذر،ایمت اشکومن میں بنیادی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق

اشکومن / کاشگل نیوز

ایمت اشکومن اور بالائی علاقوں کو درپیش عوامی مسائل، بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کے حوالے سے ایمت میں دوسرا اہم عوامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں مطالبات پرعملی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔

بدھ 16 ستمبر 2026 کو بائے بار گیسٹ ہاؤس ایمت اشکومن میں منعقدہ اجلاس ظفر محمد شادم خیل کی قیادت میں ہوا۔ اجلاس میں نمبرداران، عمائدین، سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ ہولڈرز و عہدیداران، ڈسٹرکٹ یونین کونسلز کے امیدواران، طلبہ تنظیموں کے نمائندگان، نوجوانوں، تاجر برادری، ٹرانسپورٹ یونین اور دیگر طبقات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔

اجلاس میں ایمت اور بالائی اشکومن کی سڑکوں کی خستہ حالی، بنیادی مراکز صحت کی صورتحال، نامکمل ترقیاتی منصوبوں، گندم کوٹے، امن و امان، منشیات کی مبینہ فروخت، چوری کی وارداتوں اور زمین مالکان کے واجب الادا معاوضوں سمیت مختلف مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ایمت سے بالائی علاقوں بالخصوص بدصوات سے آگے کی آبادیوں کا زمینی رابطہ بحال کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مئی سے سڑک کی بحالی نہ ہونے کے باعث بالائی علاقوں کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

اجلاس میں چٹورکھنڈ سے ایمت تک میٹل روڈ کی تعمیر میں مبینہ تاخیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء کے مطابق منصوبے کا ٹینڈر ہوئے تقریباً دو سال گزر چکے ہیں، تاہم کام کی رفتار تسلی بخش نہیں۔ انہوں نے فلنگ، حفاظتی دیواروں اور ایکسکیویشن کا کام جلد شروع اور منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

صحت کے شعبے میں شرکاء نے ایمت اے کلاس ڈسپنسری میں ڈاکٹر کی باقاعدہ حاضری، ادویات اور طبی سہولیات کی فراہمی جبکہ تبادلہ کیے گئے گریڈ 16 اور گریڈ 14 کے ملازمین کی دوبارہ تعیناتی کا مطالبہ کیا۔ مترم دان اور بلھنز ڈسپنسریوں کو فعال کرنے، اشکومن کے دیگر مراکز صحت سے منتقل کیے گئے ملازمین کو واپس لانے اور ادویات کی قلت دور کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

ترقیاتی اور ایمرجنسی منصوبوں کے حوالے سے شرکاء نے کہا کہ بعض منصوبے مبینہ طور پر ادھورے چھوڑ دیے جاتے ہیں یا بروقت مکمل نہیں ہوتے، جس سے عوام کو مشکلات کے ساتھ قومی خزانے پر بھی بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے ایمرجنسی منصوبوں کی مؤثر نگرانی اور انہیں حقیقی عوامی ضرورت کے مطابق مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں بدصوات سکول، مترم دان سکول اور اشکومن مومن آباد ہائیر سیکنڈری سکول کی نامکمل عمارتوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے سے زیر تعمیر منصوبوں کی تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی جائے اور تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔

گندم کے حوالے سے شرکاء نے مقررہ کوٹے میں کمی، مبینہ غیر قانونی کٹوتیوں اور ناقص گندم کی فراہمی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عوام کو مقررہ کوٹے کے مطابق معیاری گندم فراہم کی جائے اور تقسیم کے نظام میں شفافیت یقینی بنائی جائے۔

امن و امان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شرکاء نے ایمت اور اشکومن میں افیون، چرس اور دیسی شراب کی مبینہ فروخت اور چوری کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو برس کے دوران علاقے میں 26 چوری کی وارداتیں ہوئیں، جن میں سے صرف دو پر کارروائی ہوئی جبکہ 24 واقعات پر تاحال مؤثر پیش رفت نہیں ہوئی۔ شرکاء نے عبادت گاہوں میں مبینہ چوری کے واقعات کا بھی ذکر کرتے ہوئے پولیس گشت اور نگرانی میں اضافے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے ترقیاتی منصوبوں سے متاثرہ زمین مالکان کے واجب الادا معاوضوں کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بقایاجات کی تفصیلات مرتب کرکے مستحق افراد کو جلد ادائیگی یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں اور ضلعی انتظامیہ سے عملی پیش رفت کا مطالبہ جاری رکھا جائے گا اور تمام اقدامات پرامن، آئینی اور قانونی ذرائع سے کیے جائیں گے۔

اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ عوامی مسائل کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے علاقے کا مشترکہ معاملہ ہیں، اس لیے تمام طبقات کو باہمی مشاورت سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 20 ستمبر کو چٹورکھنڈ میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد ہوگا، جس میں تحصیل سطح پر عوامی مسائل کے حوالے سے حتمی اعلامیہ جاری کیا جائے گا اور آئندہ کا لائحہ عمل باہمی مشاورت سے طے کیا جائے گا۔

Share this content: