پاکستان کے زیرِ انتظام جموں کشمیر میں فعال ترقی پسند و قوم پرست جماعت جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور معروف سیاسی و نظریاتی متحرک فعال پسند الیاس کشمیری کی نئی کتاب "احتجاج سے اختیار تک: عوامی مزاحمت” پاکستان کے نامور اشاعتی ادارے فکشن ہاؤس پبلیکیشنز کے تحت شائع ہو گئی ہے۔
کتاب میں عوامی تحاریک، گلی محلوں سے جنم لینے والی مزاحمت، حقوق کی جدوجہد اور سیاسی و علمی نظریات کو تفصیل سے موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔
کتاب "احتجاج سے اختیار تک،عوامی مزاحمت” بنیادی طور پر محض ردِعمل کے تحت کیے جانے والے احتجاج کو منظم سیاسی و عوامی اختیار میں بدلنے کا علمی اور عملی فریم ورک پیش کرتی ہے۔
کتاب کا بنیادی مقصد یہ سمجھانا ہے کہ مظلوم طبقے اور محکوم اقوام صرف سڑکوں پر احتجاج کرنے تک محدود نہ رہیں، بلکہ اس عوامی طاقت اور مزاحمت کو سیاسی طاقت و اختیار میں کیسے منتقل کیا جائے۔
کتاب میں خاص طور پر بلوچ تحریکِ آزادی اور بلوچستان میں جاری قومی و عوامی جدوجہد پر ایک اہم اور تفصیلی باب شامل کیا گیا ہے۔
الیاس کشمیری نے اپنے سوشلسٹ اور ترقی پسند فکر کے تناظر میں بلوچ قومی سوال، ریاست کے جابرانہ رویوں، اور بلوچ و کشمیری عوام کے مشترکہ قومی و سیاسی مفادات کا تجزاتی احاطہ کیا ہے۔
کشمیری اور بلوچ عوام سمیت خطے کی دیگر مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت، انسانی حقوق کی پامالیوں، اور بالادست طبقاتی و عسکری نظام کے خلاف عوامی تحاریک کے مستقبل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔
جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی (JKPNP) کے مرکزی رہنما کے طور پر الیاس کشمیری کا شمار ان فکر سازوں میں ہوتا ہے جو کشمیر اور بلوچستان میں جاری تحاریک کو ایک نظریاتی اور فکری جوڑ فراہم کرنے کے حامی ہیں۔
فکشن ہاؤس جیسے مرکزی دھارے کے معروف پبلشنگ ہاؤس سے اس کتاب کی اشاعت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں عسکری بالادستی، سیاسی غصب اور عوامی حقوق کی تحاریک پر لکھی جانے والی تحریریں اب علمی و فکری حلقوں میں اہم پذیرائی حاصل کر رہی ہیں۔
کتاب نہ صرف سیاسی کارکنوں اور طلباء کے لیے ایک مشعلِ راہ ثابت ہوگی بلکہ کشمیر اور بلوچستان پر کام کرنے والے تجزیہ نگاروں کے لیے بھی ایک اہم علمی ذخیرہ ثابت ہوگی۔
شائقینِ کتب کے لیے یہ اہم تصنیف فکشن ہاؤس سے 1,200 روپے میں دستیاب ہے۔
Share this content:


