حکومتی بدعہدی کے خلاف جیک کا 4 اکتوبر کو یومِ سیاہ اور 2 ماہ کے راشن ذخیرہ کرنے کا اعلان

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی جانے والی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے نیا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے 4 اکتوبر کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر منانے اور اسی روز تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اعلامیے میں JKJAAC نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 ستمبر سے 25 اکتوبر 2025ء کے دوران لانگ مارچ کے موقع پر سات نوجوان سدھیر اعوان، قاری احسن شاہ، انصر بھٹی، اویس، فرحان، حسیب طارق اور فرید ریاست جان سے گئے۔

کمیٹی کے مطابق 5 جون 2026ء سے شروع ہونے والی حالیہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران بھی بڑی تعداد میں افراد ہلاک، زخمی اور گرفتار ہوئے، جبکہ متعدد افراد کو لاپتہ کیا گیا۔ اعلامیے میں کمیٹی کے ارکان، کارکنوں، صحافیوں اور دیگر شہریوں کی گرفتاریوں کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

JKJAAC نے الزام عائد کیا کہ گرفتار افراد کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا اور بعض کو طبی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیٹی نے مزید دعویٰ کیا کہ مختلف علاقوں میں شہریوں کی املاک، دکانوں، گھروں، گاڑیوں اور دفاتر کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ تاجروں کی دکانیں اور تعلیمی ادارے بھی سیل کیے گئے۔

اعلامیے میں 27 جولائی کو لانگ مارچ دوبارہ آگے بڑھانے کے دوران فورسز کی فائرنگ سے شرکاء کے جاں بحق اور زخمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس واقعے کی مذمت کی گئی ہے۔ کمیٹی نے ان واقعات کو شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے تعبیر کیا ہے۔

JKJAAC کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ساڑھے تین سال سے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ کے حصول کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کر رہی ہے اور اس دوران حکومت کے ساتھ متعدد مذاکرات اور معاہدے ہوئے، تاہم کمیٹی کے بقول ان معاہدوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

اعلامیے میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہروں میں فورسز کی موجودگی کو تعلیمی سرگرمیوں اور صحت کی سہولیات کے لیے رکاوٹ قرار دیتے ہوئے فورسز کی واپسی، انٹرنیٹ کی بحالی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں طلباء کے تعلیمی نقصان کو کم کرنے کے لیے عارضی طور پر رضاکار اسکول قائم کیے گئے ہیں اور عوام سے ان اسکولوں کے لیے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

دو ماہ کے راشن کا ذخیرہ کرنے کی اپیل

اعلامیے میں عوام سے 3 اکتوبر 2026ء تک آئندہ دو ماہ کے لیے راشن اور اشیائے خوردونوش کا ذخیرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

کمیٹی نے اپنی اپنی یونین کونسل اور وارڈ کی سطح پر مخیر حضرات کے تعاون سے غریب اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے راشن کی فراہمی یقینی بنانے کی بھی اپیل کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق 4 اکتوبر کے بعد تحریک کی جانب سے ایک ’’اہم کال‘‘ دی جائے گی، تاہم اس کی نوعیت کا فیصلہ بعد میں بتایا جائے گا۔

JKJAAC نے 28 ستمبر سے 3 اکتوبر تک تاجروں کے لاک ڈاؤن میں کمی کرتے ہوئے تاجر برادری سے چھ روز کاروبار کھلے رکھنے کی اپیل کی ہے تاکہ عوام اشیائے خوردونوش خرید سکیں۔ کمیٹی نے گڈز ٹرانسپورٹ کو صرف اشیائے خوردونوش کی ترسیل جاری رکھنے جبکہ شہریوں کو مریضوں اور بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کے علاوہ غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

4 اکتوبر کو یومِ سیاہ منانے کا اعلان

کمیٹی نے 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے کو ایک سال مکمل ہونے پر حکومت کی مبینہ بدعہدی اور وعدہ خلافیوں کے خلاف 4 اکتوبر 2026ء کو ’’یومِ سیاہ‘‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس موقع پر راولاکوٹ، برطانیہ اور دیگر مقامات پر احتجاجی پروگرام اور دھرنے منعقد کیے جائیں گے جبکہ عوام سے سیاہ پرچم لہرانے کی اپیل کی گئی ہے۔

JKJAAC کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کو تحریک کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

کمیٹی نے پاکستان میں سیاسی کارکنوں، وکلاء، صحافیوں، ٹریڈ یونینز، تاجر اور ٹرانسپورٹ برادری سمیت مختلف طبقات سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری حقوق کی تحریک اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاج منظم کریں۔

اعلامیے میں پاکستانی زیرِ انتظام کشمیر اور بیرونِ ملک مقیم کشمیری سوشل میڈیا کارکنوں اور صحافتی اداروں سے بھی تحریک کے مؤقف کو اجاگر کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

JKJAAC نے حکمران طبقات سے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر عملدرآمد کیا جائے اور 5 جون سے اب تک پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے۔

کمیٹی نے کہا ہے کہ اس کی جدوجہد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے ہے، اور کارکنوں و عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کمیٹی کے طے کردہ ضابطۂ اخلاق کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

واضح رہے کہ JKJAAC نے 9 جون 2026ء کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کمیٹی نے 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے پر عملدرآمد کو اپنی احتجاجی مہم کے اہم مطالبات میں شامل رکھا ہے۔

Share this content: