پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں عدالت نے تفتیشی افسر کی عدم دستیابی اور کیس سے متعلق درست معلومات فراہم نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ درست معلومات فراہم نہ کیے جانے کی صورت میں گرفتاری کا حکم بھی دیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے جوڈیشل فورس کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’’یہاں تو 1898 اور 1860 کا نظام چل رہا ہے۔‘‘
ڈی ایس پی نعیم یوسف نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور ان کا موبائل فون بھی بند جا رہا ہے۔
اس پر وکیلِ صفائی ریاست علی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ’’بدنیتی دیکھیں، عدالتوں کے ساتھ مذاق بنایا ہوا ہے۔‘‘
بعد ازاں جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے کہا کہ وہ معاملے پر تفصیلی حکم جاری کریں گے اور تفتیشی افسر کی عدم دستیابی سے متعلق بھی فیصلہ دیا جائے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
Share this content:


