گلگت /کاشگل نیوز
گلگت بلتستان کے وکلا اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے نمائندہ وفد کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت، عوام کے بنیادی و آئینی حقوق، عدلیہ کی آزادی، اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی، موجودہ سیاسی صورتحال اور انسانی حقوق سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں گلگت بلتستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سمعح احمد ایڈووکیٹ، چیئرمین ہیومن رائٹس کمیٹی گلگت بلتستان بار کونسل ولی خان مورکل ایڈووکیٹ، سابق ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان و صدر سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن محمد اقبال ایڈووکیٹ، صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن امتیاز احمد ایڈووکیٹ، ممبر ایگزیکٹو کمیٹی اشفاق احمد ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گلگت وقاص احمد ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری ہائی کورٹ بار فیضان ایڈووکیٹ، جنرل سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن گلگت اشی بتول ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا نے شرکت کی۔
اس موقع پر وکلا نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق اپنے قانونی تحفظات، آئینی سوالات اور عوامی حقوق سے وابستہ خدشات HRCP کے نمائندہ وفد کے سامنے پیش کیے۔ وکلا کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا معاملہ محض انتظامی بندوبست تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق عوام کے بنیادی حقوق، سیاسی و جمہوری نمائندگی، قانون سازی، عدالتی اختیار، انصاف تک رسائی اور قانون کی حکمرانی سے ہے۔
ملاقات میں اعلیٰ عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے معاملے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ عدلیہ کی آزادی، شفاف طریقۂ کار، میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری کو یقینی بنانا ایک مؤثر اور غیر جانب دار نظامِ انصاف کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وکلا کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عدالتی نظام سے متعلق فیصلوں اور اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے معاملات میں شفافیت، قانونی اصولوں اور عدلیہ کی آزادی کو بنیادی معیار بنایا جانا چاہیے تاکہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مزید مضبوط ہو۔
ملاقات میں گلگت بلتستان کی موجودہ سیاسی صورتحال، انسانی حقوق اور عوام کو درپیش مختلف آئینی و قانونی مسائل بھی زیرِ بحث آئے۔ شرکا نے اس امر پر زور دیا کہ گلگت بلتستان سے متعلق اہم آئینی و قانونی معاملات میں مقامی وکلا، انسانی حقوق کے اداروں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی رائے کو بھی اہمیت دی جائے۔
وکلا برادری نے کہا کہ آئین، قانون، عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کسی بھی معاشرے میں قانون کی حکمرانی کی بنیادی بنیادیں ہیں، اس لیے گلگت بلتستان کے عوام کے آئینی و قانونی حقوق سے متعلق معاملات کو بھی انہی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔
ملاقات میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اختلافِ رائے کو تصادم کے بجائے قانونی، آئینی اور جمہوری مکالمے کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ شرکا کے مطابق گلگت بلتستان کے مستقبل سے متعلق آئینی سوالات کا حل وسیع تر مشاورت، آئینی اصولوں، قانون کی حکمرانی اور عوامی حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔
Share this content:


