ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستانی فورسز پر حملے، 5 اہلکار ہلاک

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک گھنٹے کے اندر نا معلوم مسلح افراد کے دو مختلف حملوں میں پانچ اہلکار ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہو گیا۔

پولیس کے مطابق پہلا واقعہ بائی پاس روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ہائی وے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈرائیور کانسٹیبل حبیب موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ ہیڈ کانسٹیبل سبحان زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق دوسرا حملہ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے قریشی موڑ پر ہوا، جہاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اہلکار ڈیوٹی پر موجود تھے۔ ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین نے بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والوں میں دو ایف بی آر کے مستقل اہلکار تھے جبکہ ان کے ساتھ دو نجی ملازمین بھی موجود تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ایف بی آر اہلکاروں کے ساتھ معاونت کے لیے موجود دو ملازم کنٹریکٹ پر کام کرتے تھے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ریسکیو 1122 ڈیرہ اسماعیل خان کے مطابق کنٹرول روم کو بھٹی پمپ، یونیورسٹی روڈ کے مقام پر کسٹمز پولیس پر فائرنگ اور حملے کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ریسکیو ٹیموں نے جائے وقوعہ سے چار افراد کی لاشیں تحویل میں لے کر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیں۔

حکام نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں 2026 کے دوران پولیس، کسٹمز، ایف بی آر اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں پر متعدد حملے ہو چکے ہیں۔

14 جنوری کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ تین فروری کو پروآ تھانے پر حملے میں چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 11 فروری کو پنیالہ کے علاقے وانڈہ بدھ میں پولیس ٹیم پر حملے کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور ڈی ایس پی سمیت ایک اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

18 فروری کو یارک پولیس سٹیشن اور قریبی کسٹمز دفتر کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک کسٹمز اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

14 مارچ کو کھتی پولیس چیک پوسٹ پر دوبارہ حملہ کیا گیا جس میں ایک کانسٹیبل زخمی ہوئے، جبکہ 24 اپریل کو درابن پولیس سٹیشن پر راکٹ لانچروں اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

19 مئی کو یارک پولیس سٹیشن کے باہر فائرنگ میں پولیس کانسٹیبل عبدالعزیز ہلاک ہوئے، جبکہ 31 جولائی کو چودھوان کے علاقے شاہ عالم موڑ کے قریب پولیس پارٹی پر حملے میں اے ایس آئی فقیر محمد اور ہیڈ کانسٹیبل وزیر خان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

25 اگست کو درازندہ کے ڈوگ شپیلہ پولیس پوسٹ پر حملے میں تین پولیس اہلکار اور دو راہگیر زخمی ہوئے۔ 28 اور 29 اگست کو امین فارم کے علاقے میں پولیس گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعات میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

26 ستمبر کو درازندہ کے امان میلہ میں پولیس، کسٹمز اور ایکسائز کی مشترکہ چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے خودکش حملہ کیا گیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو کسٹمز اہلکار بھی شامل تھے۔

Share this content: