آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے، ایران کا دعویٰ

ایرانی خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر کے ایک سینیئر کمانڈر نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایرانی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کا دعویٰ ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری ہے اور اب تک 130 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔

بریگیڈیئر جنرل شمخال جعفری نے ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ’دشمن‘ کو اپنے بحری جہاز اور بحری ساز و سامان ایرانی سرحدوں سے بہت دور تعینات کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی افواج نے مخالف فریق کا کچھ ساز و سامان ’مالِ غنیمت‘ کے طور پر حاصل کیا ہے، تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

دوسری جانب سینٹکام نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے دوران امریکی افواج 130ویں تجارتی بحری جہاز کا راستہ تبدیل کروا چکی ہیں۔

سینٹکام کے مطابق یہ ناکہ بندی 14 جولائی کو امریکی صدر کے حکم پر دوبارہ شروع کی گئی تھی اور اس کا ہدف وہ جہاز ہیں جو ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں یا وہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔

امریکی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ایسے تین جہازوں کو ناکارہ بنایا جو امریکی احکامات پر عمل نہیں کر رہے تھے، جبکہ گذشتہ 12 ہفتوں کے دوران 13 تجارتی جہاز تباہ کیے گئے۔ سینٹکام کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز ناکہ بندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے یا ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ خفیہ تجارتی نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

Share this content: