ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے کو قبول کیوں نہیں کرتے؟

ریاست جموں کشمیر سے دنیا تک

نظریات مختلف ہوں تو اختلاف، مگر ایک ہی سوچ ہو تو گروہ بندی کیوں؟

تحقیق و تحریر: خواجہ کبیر احمد

تحقیق اور مشاہدے سے ایک دلچسپ مگر تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بعض نظریاتی اور سیاسی حلقے اس قدر بند دائرے میں تبدیل ہو جاتے ہیں کہ ان میں شمولیت صرف نظریاتی وابستگی کا سوال نہیں رہتی، بلکہ ایک مخصوص شناخت، پس منظر اور گروہی وفاداری بھی شرط بن جاتی ہے۔ باہر سے آنے والا شخص چاہے کتنی ہی سنجیدگی سے اس نظریے سے متاثر ہو، اسے برابر کا ساتھی تسلیم کرنا آسان نہیں ہوتا۔

یہ سوال صرف ریاست جموں کشمیر تک محدود نہیں۔ دنیا کی تاریخ میں مذہبی، قومی، نسلی اور سیاسی تحریکوں کے اندر ایسے بے شمار مواقع ملتے ہیں جب کسی وسیع تر مقصد کے لیے قائم ہونے والی تحریک وقت گزرنے کے ساتھ اپنے اندر مختلف دھڑوں، تعبیرات اور وفاداریوں میں تقسیم ہوتی گئی۔ پھر اصل سوال یہ نہیں رہتا کہ مقصد کیا ہے، بلکہ یہ بن جاتا ہے کہ اس مقصد کی نمائندگی کا حق کس کے پاس ہے۔

مذہب کے میدان میں یہ مسئلہ اپنی ایک الگ شکل رکھتا ہے۔ یہودیت اس کی ایک قابلِ مطالعہ مثال ہے۔ یہاں یہ بات درست نہیں کہ کوئی غیر یہودی شخص یہودی مذہب اختیار نہیں کرسکتا؛ باقاعدہ قبولِ مذہب کا پورا مذہبی طریقۂ کار موجود ہے۔ تاہم روایتی یہودی روایت میں اس عمل کو محض ایک اعلان یا فوری رکنیت نہیں سمجھا جاتا بلکہ امیدوار کی نیت، تعلیم، مذہبی ذمہ داریوں کی قبولیت اور باقاعدہ مذہبی طریقۂ کار کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ مختلف یہودی دھاروں کے درمیان اس بات پر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ کون سی تبدیلیِ مذہب قابلِ قبول ہے۔ یعنی یہاں اصل تحقیقی نکتہ یہ ہے کہ مذہبی شناخت میں داخلہ ممکن ہونے کے باوجود اس کے لیے ایک واضح دروازہ، شرائط اور ادارہ جاتی قبولیت موجود ہے۔

دنیا کے مذاہب میں یہودیت اس حوالے سے ایک نمایاں مثال پیش کرتی ہے۔ یہودیت میں باہر کے مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کا قبولِ مذہب عام طور پر آسان یا معمول کی بات نہیں سمجھی جاتی، جبکہ بعض دیگر مذاہب میں دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے تبدیلیِ مذہب کے دروازے نسبتاً زیادہ کھلے ہوتے ہیں۔ یہ مثال اس حقیقت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ بعض شناختیں اپنے دائرے کو اس قدر محدود کر لیتی ہیں کہ باہر سے آنے والے شخص کو، خواہ وہ کتنی ہی سنجیدگی سے اس شناخت کو اختیار کرنا چاہے، آسانی سے قبول نہیں کیا جاتا۔

یہاں ایک اور اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔ کسی مذہب کا اپنے عقائد کے تحفظ کے لیے کچھ اصول مقرر کرنا اور کسی سیاسی یا نظریاتی گروہ کا ہر نئے آنے والے شخص کو محض اس لیے مشکوک سمجھنا کہ وہ پہلے سے اس کے حلقے میں شامل نہیں تھا، دو الگ چیزیں ہیں۔ مذہبی قبولِ مذہب ایک باقاعدہ مذہبی عمل ہوسکتا ہے، جبکہ سیاسی وابستگی بنیادی طور پر ایک فکری اور اجتماعی انتخاب ہے۔ اس لیے سیاسی تحریکوں کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہوجاتا ہے کہ اگر کوئی شخص ان کے بنیادی مقصد سے اتفاق کرتا ہے تو کیا اسے اختلافات کے باوجود اپنے ساتھ چلنے کی جگہ دی جاتی ہے؟

ریاست جموں کشمیر کے سیاسی منظرنامے میں بھی مختلف ناموں اور القابات سے پہچانے جانے والے متعدد گروہ اور عوامل موجود ہیں۔ کوئی خود کو نیشنلسٹ کہتا ہے، کوئی آزادی پسند، کوئی ترقی پسند، کوئی انقلابی اور کوئی کسی دوسرے نظریاتی عنوان سے اپنی شناخت کرتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ان کے رویے میں ایک قدرِ مشترک دکھائی دیتی ہے: ہر گروہ اپنے نظریے، اپنی قیادت اور اپنی تشریح کو زیادہ درست، زیادہ خالص اور زیادہ مقدس سمجھنے لگتا ہے، اور دوسرے کو اپنے دائرے میں شامل کرنے کے بجائے اس سے فاصلہ برقرار رکھتا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کی سیاسی تاریخ اس تقسیم کے کئی شواہد پیش کرتی ہے۔ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں بھی یہ سوال موجود تھا کہ ریاست کی سیاسی شناخت مذہبی بنیاد پر متعین ہوگی یا ایک وسیع تر مشترکہ قومی شناخت کی بنیاد پر۔ 1938 میں پیش کیا جانے والا ’’National Demand (قومی مطالبہ)‘‘ مذہبی برادری تک محدود ہونے کے بجائے ایک ہمہ گیر سیاسی شناخت کی بات کرتا تھا، جبکہ بعد میں مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس کے درمیان اختلافات نے ظاہر کیا کہ ایک ہی سیاسی ماحول میں مختلف قومی اور مذہبی تصورات کس طرح ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں۔ 1941 میں مسلم کانفرنس کی دوبارہ تشکیل بھی اسی وسیع تر سیاسی اختلاف کا ایک اہم تاریخی مرحلہ تھی۔

یہ تقسیم بعد کے ادوار میں بھی مختلف شکلوں میں جاری رہی۔ ریاست جموں کشمیر کے تنازع پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے بارہا نشاندہی کی ہے کہ یہاں سیاسی عوامل صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہے بلکہ مقامی، علاقائی، مذہبی، قومی اور سیکولر تصورات بھی ایک دوسرے کے ساتھ مقابلے میں رہے۔ بعض محققین نے کشمیر کی سیاست میں مذہبی، سیکولر اور جغرافیائی شناختوں کے بیک وقت اثرانداز ہونے کو خاص طور پر نمایاں کیا ہے۔

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ایک دوسرے کے نظریات سے اختلاف کیا جاتا ہے؛ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف، عدمِ تسلیم میں تبدیل ہو جائے۔ یعنی دوسرا شخص بھی اسی منزل کا مسافر ہو، آزادی یا حقِ حکمرانی کی بات کرتا ہو، مگر چونکہ وہ ہماری تنظیم، ہمارے گروہ یا ہماری مخصوص تشریح کا حصہ نہیں، اس لیے اسے اپنا سمجھنے سے انکار کر دیا جائے۔

اس کی ایک بین الاقوامی مثال جنوبی افریقہ کی آزادی کی جدوجہد میں دیکھی جاسکتی ہے۔ افریقی نیشنل کانگریس کے اندر 1950 کی دہائی میں یہ اختلاف شدت اختیار کر گیا کہ آزادی کی تحریک کی قومی شناخت اور سیاسی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے۔ Africanist (افریقی قوم پرست) دھڑے کے اختلافات بالآخر 1959 میں Pan Africanist Congress (پین افریقی کانگریس) کے قیام کا سبب بنے۔ دونوں کا بنیادی تعلق نسلی امتیاز اور apartheid (نسلی امتیاز پر مبنی نظام) کے خلاف جدوجہد سے تھا، لیکن آزادی کی تعبیر، سیاسی شناخت اور حکمتِ عملی کے اختلاف نے ایک بڑی تحریک کے اندر ایک الگ سیاسی تنظیم کو جنم دیا۔ اس تاریخی مثال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشترکہ دشمن یا مشترکہ مقصد ہمیشہ مشترکہ سیاسی شناخت پیدا نہیں کرتا۔

فلسطینی سیاست بھی اس حوالے سے ایک اہم جدید مثال پیش کرتی ہے۔ 2006 کے انتخابات کے بعد حماس اور فتح کے درمیان اقتدار اور سیاسی سمت کے اختلافات شدید ہوئے۔ مشترکہ قومی مقصد کے باوجود دونوں دھڑوں کے درمیان اسرائیل کے بارے میں پالیسی، سیاسی قیادت اور حکمرانی کے طریقۂ کار پر بنیادی اختلافات رہے، جو 2007 میں غزہ اور مغربی کنارے کی الگ الگ سیاسی انتظامیہ میں تبدیل ہوگئے۔ مختلف ادوار میں مفاہمت کی کوششیں بھی ہوئیں، لیکن مستقل سیاسی وحدت قائم نہ ہوسکی۔ یہاں بھی مسئلہ صرف نظریاتی اختلاف نہیں تھا؛ اصل سوال نمائندگی، اختیار اور قیادت کا تھا۔

ریاست جموں کشمیر میں حریت کانفرنس کی تاریخ بھی سیاسی اتحاد اور داخلی اختلاف کی ایک مثال ہے۔ مختلف سیاسی اور مذہبی گروہوں پر مشتمل یہ اتحاد ایک مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس کے اندر مستقبل کی حکمتِ عملی، مذاکرات اور سیاسی راستے کے سوالات پر اختلافات پیدا ہوئے۔ 2004 میں حریت کے اندر تقسیم اس بات کی مثال ہے کہ ایک مشترکہ سیاسی عنوان کے نیچے موجود گروہوں کے لیے ایک ہی سیاسی راستہ اختیار کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔

اس سے بھی زیادہ عجیب صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے گروہ کے نظریے سے متاثر ہو کر اس کے قریب آنا چاہے، اس کے ساتھ چلنا چاہے یا اس کی جدوجہد کا حصہ بننا چاہے، لیکن اسے صرف اس لیے قبول نہ کیا جائے کہ وہ پہلے سے اس مخصوص دائرے کا رکن نہیں تھا۔ یوں نظریہ ایک وسیع دعوت کے بجائے موروثی یا بند گروہی شناخت بن جاتا ہے، جس میں نئے آنے والے کے لیے جگہ پیدا نہیں کی جاتی۔

یہاں ایک بنیادی سیاسی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی نظریے سے اتفاق کرنے کے لیے کسی مخصوص تنظیم کی پیدائش یا سابقہ رکنیت لازمی ہونی چاہیے؟ اگر ایک شخص کل تک کسی دوسرے سیاسی تصور سے وابستہ تھا، مگر آج اپنی سوچ تبدیل کرکے کسی آزادی پسند، نیشنلسٹ یا ترقی پسند تصور کو قبول کرتا ہے، تو کیا اس کی نئی فکری وابستگی ہمیشہ مشکوک رہے گی؟

تاریخ میں سیاسی تحریکوں نے بعض اوقات اسی سوال کا مثبت جواب دیا اور بعض اوقات منفی۔ جنوبی افریقہ کی مثال میں 1980 کی دہائی کے دوران ایسے رابطے بھی ہوئے جن میں مختلف سفید فام سیاسی و سماجی حلقوں کے افراد نے ANC (افریقی نیشنل کانگریس) سے رابطہ قائم کیا، حالانکہ وہ اس سے پہلے اس تحریک کے مخالف ماحول کا حصہ رہے تھے۔ یہ رابطے بعد کے سیاسی مذاکرات کے وسیع عمل کا حصہ بنے۔ اس سے کم از کم یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی تحریکیں اس وقت وسیع ہوتی ہیں جب وہ سابقہ شناختوں سے آنے والے افراد کے لیے بھی کسی نہ کسی درجے میں جگہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

یہ رویہ صرف سیاسی یا نظریاتی حلقوں تک محدود نہیں۔ مذہبی گروہوں میں بھی اکثر یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ ہر فرقہ اور جماعت اپنے عقیدے، اپنی تعبیر اور اپنی روایت کو حق کا مکمل اور آخری معیار سمجھنے لگتی ہے، جبکہ دوسرے مسالک یا مذاہب سے وابستہ لوگوں کو کمتر، گمراہ یا دائرۂ حق سے باہر قرار دینا آسان سمجھا جاتا ہے۔ اگر مذہب انسان کو اخلاق، برداشت، عدل اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے، تو پھر مذہب کے نام پر قائم کیے گئے یہ تنگ دائرے اس کی اصل روح کے منافی کیوں دکھائی دیتے ہیں؟ کیا مذہب کا مقصد انسانوں کو جوڑنا نہیں، یا ہم نے اسے بھی اپنی گروہی شناخت اور برتری کا ذریعہ بنا لیا ہے؟

یہ سوال صرف مذہب کے بارے میں نہیں بلکہ ہر اس انسانی شناخت کے بارے میں ہے جسے ہم اپنے گرد ایک دیوار بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مذہبی فرقہ، سیاسی جماعت، قومی شناخت، نظریاتی تنظیم یا آزادی کی تحریک—جب بھی شناخت انسان کے احترام سے بڑی ہوجائے، اختلاف دشمنی میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ مذہبی اختلاف اور سیاسی اختلاف کو ایک ہی پیمانے سے نہ ناپا جائے۔ مذہبی عقائد افراد کے روحانی اور شخصی یقین سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ سیاسی نظریات اجتماعی اقتدار، ریاست، قانون اور عوامی مستقبل سے متعلق ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں میدانوں میں ایک مشترک اصول ضرور سامنے آتا ہے: اختلاف کے باوجود دوسرے انسان کے وجود، وقار اور حقِ اظہار کو تسلیم کرنا۔

کشمیر کی تاریخ میں ’’آزادی‘‘ کا تصور بھی ہمیشہ ایک ہی معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ علمی تحقیق یہ دکھاتی ہے کہ مختلف ادوار میں آزادی کے معنی سیاسی خودمختاری، جمہوری حقوق، مذہبی شناخت، معاشی انصاف اور مختلف سیاسی مستقبلوں سے جوڑے جاتے رہے۔ اس لیے ’’آزادی‘‘ کا لفظ بذاتِ خود ایک مکمل سیاسی پروگرام نہیں بلکہ ایک ایسا تصور ہے جس کی تعبیر مختلف سیاسی گروہ اپنے اپنے تاریخی اور نظریاتی تجربے کے مطابق کرتے رہے ہیں۔

اسی لیے کسی ایک گروہ کا یہ سمجھنا کہ آزادی کی واحد تعریف صرف اسی کے پاس ہے، خود ایک تحقیقی سوال بن جاتا ہے۔ اگر ایک کشمیری آزادی سے مراد مکمل خودمختاری لیتا ہے، دوسرا پاکستان یا بھارت سے کسی مخصوص سیاسی رشتے کو آزادی سمجھتا ہے، تیسرا زیادہ سے زیادہ داخلی خودمختاری کو ترجیح دیتا ہے، اور چوتھا مذہبی بنیادوں پر ریاست کا تصور پیش کرتا ہے، تو اختلاف لازماً موجود ہوگا۔ لیکن اختلاف کا وجود دوسرے شخص کے سیاسی وجود کو ختم نہیں کرتا۔

اگر آزادی، خودمختاری، جمہوریت، عوامی حقِ حکمرانی اور مذہب جیسے تصورات بھی انسانوں کے درمیان نئے نئے مقدس دائرے قائم کرنے لگیں، تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس آزادی، کس مذہب اور کس انسانیت کی بات کر رہے ہیں؟

شاید اصل امتحان یہ نہیں کہ ہم اپنے نظریے کو کتنا درست سمجھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اختلاف رکھنے والے انسان کے ساتھ کس قدر انصاف کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ہمارے سیاسی تصور سے اختلاف کرتا ہے لیکن ہمیں اختلاف کا حق دیتا ہے، تو کیا وہ ہمارے اس ساتھی سے کم جمہوری ہے جو ہماری ہر بات سے اتفاق کرتا ہے؟ اور اگر کوئی شخص ہماری تحریک میں شامل ہونا چاہتا ہے مگر اس کی سابقہ سیاسی شناخت مختلف رہی ہے، تو کیا اس کی موجودہ وابستگی کو ہمیشہ اس کے ماضی کی بنیاد پر رد کیا جانا چاہیے؟

سیاسی نظریات وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں۔ انسان بھی اپنی زندگی میں اپنی سیاسی، سماجی اور مذہبی سوچ تبدیل کرتا ہے۔ یہی انسانی آزادی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ جو معاشرہ انسان کو سوچ بدلنے، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور نئی وابستگی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ بظاہر کسی بڑے مقصد کے لیے جدوجہد کررہا ہو، لیکن اندر سے ایک بند سیاسی ثقافت پیدا کرسکتا ہے۔

ریاست جموں کشمیر کے مستقبل پر اختلاف فطری ہے، نظریاتی اختلاف بھی فطری ہے، مگر ایک دوسرے کے وجود، نیت اور حقِ اختلاف کو تسلیم کرنا کسی بھی سیاسی جدوجہد کی بنیادی شرط ہونی چاہیے۔ اسی طرح مذہبی اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے ایمان، وقار اور انسانی حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔ ورنہ ہم بیرونی رکاوٹوں کو تو چیلنج کرتے رہیں گے، لیکن اپنے ہی بنائے ہوئے چھوٹے چھوٹے دائروں میں ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کرتے جائیں گے۔

شاید ریاست جموں کشمیر کے سیاسی مستقبل پر سب سے مشکل سوال یہ نہیں کہ کون سا نظریہ درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا مختلف نظریات رکھنے والے کشمیری ایک دوسرے کو برابر کا انسان، برابر کا کشمیری اور اختلاف کے باوجود برابر کا سیاسی وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں؟

اگر اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو اختلاف بھی سیاسی زندگی کا حسن بن سکتا ہے۔ لیکن اگر ہر گروہ اپنے دائرے کو مقدس اور دوسرے کے دائرے کو ناقابلِ قبول سمجھتا رہے، تو پھر آزادی کی منزل سے پہلے ہمیں اپنے ذہنوں کی ان دیواروں کا سامنا کرنا ہوگا جو شاید کسی بھی بیرونی دیوار سے زیادہ مضبوط ہیں۔

٭٭٭

Share this content: