گلگت/ کاشگل نیوز
گلگت بلتستان اسمبلی کے رکن اور سابق وزیر قانون و صحت سید سہیل عباس نے سابق سینئر وزیر راجہ ذکریا خان اور دیگر پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے کارکنوں کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرنا جمہوری اقدار اور بنیادی سیاسی آزادیوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خود کو ایک جمہوری حکومت قرار دیتی ہے، لیکن اگر ایک جمہوری دور میں سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کارکنوں کو گرفتار کیا جائے تو یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا بنیادی حصہ ہے اور سیاسی مخالفین کو دبانے کے بجائے ان کی بات سننا ایک جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سید سہیل عباس نے کہا کہ امجد ایڈووکیٹ کی حکومت واضح کرے کہ سابق سینئر وزیر راجہ ذکریا خان اور دیگر سیاسی کارکنوں کو کن وجوہات اور کس قانونی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو سیاسی انتقام اور مخالفین کو دبانے کے بجائے قانون کی بالادستی، سیاسی برداشت اور جمہوری روایات کو فروغ دینا چاہیے۔ اگر کسی کے خلاف کوئی قانونی الزام ہے تو اسے شفاف قانونی طریقہ کار کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے، محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر گرفتاری کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
سید سہیل عباس نے مطالبہ کیا کہ راجہ ذکریا خان اور دیگر گرفتار سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے اور سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری کارروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اور سیاسی کارکنوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی حکومت کو اپنے سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لیے حکومتی اختیار استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
Share this content:


