اکیس برس بعد بھی زلزلے کے زخم تعمیر نو کے سینکڑوں منصوبے تا حال شروع ہی نہ ہو سکے

فرحان طارق

8 اکتوبر 2005 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا میں آنے والے تباہ کن زلزلے کو 21 برس گزر چکے ہیں، مگر اس سانحے کے بعد شروع ہونے والا تعمیر نو کا عمل آج بھی مکمل نہیں ہو سکا۔

8 اکتوبر 2005 کی صبح آنے والے شدید زلزلے نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور خیبر پختونخوا کے وسیع علاقوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

چند ہی لمحوں میں ہزاروں خاندان اپنے پیاروں، گھروں اور زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو گئے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس زلزلے کے نتیجے میں تقریباً 46 ہزار افراد جان سے گئے جبکہ تین لاکھ سے زائد مکانات تباہ ہوئے۔

زلزلے نے صرف گھروں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تقریباً 53 فیصد رقبے میں صحت، تعلیم، آب رسانی، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات کا نظام بھی شدید متاثر ہوا۔

یہ انسانی تاریخ کے ان بڑے سانحات میں شمار ہوتا ہے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے لیے ایک بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا گیا۔

ریسکیو سے تعمیر نو تک

زلزلے کے فوراً بعد حکومت پاکستان، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت، مقامی محکموں اور عالمی اداروں نے مل کر ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کا آغاز کیا۔

ابتدائی مرحلے میں توجہ زندہ بچ جانے والے افراد کو ملبے سے نکالنے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے، خوراک اور خیموں کی فراہمی اور متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے پر مرکوز رہی۔

بعد ازاں ایک بڑے تعمیر نو پروگرام کا آغاز کیا گیا، جس کا مقصد صرف تباہ شدہ عمارتوں کی دوبارہ تعمیر نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے زلزلوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے زلزلہ مزاحم تعمیرات کو فروغ دینا بھی تھا۔

اسی مقصد کے لیے ایرا (ERRA) اور سیرا (SERRA) سمیت متعلقہ اداروں نے تعمیرات سے وابستہ افراد کو زلزلہ مزاحم ڈیزائن اور تعمیراتی طریقوں کے بارے میں تربیت فراہم کی۔

زلزلے کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے لیے کیے جانے والے کاموں کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ ایرا سیرا کے فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق 2011 میں ایرا کو اقوام متحدہ کی جانب سے ساساکاوا ایوارڈ سے نوازا گیا۔

125 ارب کا نقصان، تقریباً 198 ارب کے منصوبے

سرکاری ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلہ متاثرہ اضلاع میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 125 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

اس کے مقابلے میں اب تک تقریباً 198 ارب روپے مالیت کے تعمیر نو کے منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن پر تقریباً 168 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔

اس رقم میں مختلف ڈونرز اور اسپانسرز کی جانب سے براہ راست کیے جانے والے اخراجات بھی شامل ہیں۔

لیکن تعمیر نو کا یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔

7608 منصوبے، سینکڑوں اب بھی باقی

ایرا اور سیرا کے ریکارڈ کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ سات اضلاع — مظفرآباد، ہٹیاں، نیلم، باغ، حویلی، پونچھ اور سدھنوتی — میں بحالی اور تعمیر نو کے مجموعی طور پر 7608 منصوبے زیر کار رہے ہیں۔

ان میں سے:

5878 منصوبے، یعنی تقریباً 77 فیصد، مکمل ہو چکے ہیں۔

919 منصوبوں، یعنی تقریباً 12 فیصد، پر کام جاری ہے۔

جبکہ 811 منصوبے، تقریباً 11 فیصد، مالی مشکلات کے باعث شروع نہیں ہو سکے۔

    یوں 21 برس بعد بھی تعمیر نو کے پروگرام میں سینکڑوں منصوبے ایسے ہیں جن کا آغاز ہونا باقی ہے۔

    پیسہ کم پڑتا گیا، منصوبے رکتے گئے

    تعمیر نو پروگرام کو گزشتہ کئی برس سے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

    سیرا کے ریکارڈ کے مطابق مختلف مالی سالوں میں تعمیر نو کے لیے جتنی رقم طلب کی گئی، اس کے مقابلے میں اس کا ایک محدود حصہ ہی فراہم کیا جا سکا۔

    مالی سال 2010-11 میں تقریباً 27 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں ساڑھے 7 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

    2011-12 میں تقریباً 33.32 ارب روپے طلب کیے گئے، مگر صرف 5.380 ارب روپے جاری ہوئے۔

    2012-13 میں 16.2 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں 3.564 ارب روپے ملے۔

    2013-14 میں 14 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں 1.512 ارب روپے جاری کیے گئے۔

    اس کے بعد بھی یہی صورتحال برقرار رہی۔

    2014-15 میں 10 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں تقریباً 756 ملین روپے جاری ہوئے، جبکہ 2015-16 میں تقریباً 6.96 ارب روپے کے مطالبے کے مقابلے میں 1.048 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

    2016-17 میں 8 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں تقریباً 953 ملین روپے جاری ہوئے۔

    2017-18 میں سیرا نے تقریباً 16.9 ارب روپے طلب کیے، مگر تقریباً 1.026 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

    2018-19 میں 9.504 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں تقریباً 996 ملین روپے جاری ہوئے۔

    2019-20 میں 19.812 ارب روپے کی ڈیمانڈ کے مقابلے میں صرف 731 ملین روپے جاری کیے گئے۔

    جبکہ 2020-21 میں تقریباً 9.604 ارب روپے کی طلب کے مقابلے میں محض 373 ملین روپے فراہم ہوئے۔

    سات برس میں 5.559 ارب روپے

    اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو گزشتہ سات برس کے دوران سیرا کو مجموعی طور پر تقریباً 5.559 ارب روپے جاری ہوئے۔

    یہ رقم سیرا کی ایک سال کی بعض ڈیمانڈز سے بھی کم بنتی ہے۔

    سیرا کے مطابق ان مالی مشکلات کے دوران بھی گزشتہ سات برس میں بالخصوص تعلیم اور صحت کے تقریباً 463 منصوبے مکمل کیے گئے۔

    ان منصوبوں میں اسکول، ہسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات کی بحالی شامل ہے، جنہیں زلزلے کے بعد متاثرہ آبادی کی زندگی معمول پر لانے کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

    30 ارب روپے ابھی درکار

    لیکن تعمیر نو کے اس سفر کا اختتام ابھی باقی ہے۔

    سیرا کے مطابق تعمیر نو پروگرام کے باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 30.107 ارب روپے درکار ہیں۔
    ان میں2.429 ارب روپے مکمل شدہ منصوبوں سے متعلق واجبات کے لیے،12.615 ارب روپے جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے،اور تقریباً 15.061 ارب روپے ان منصوبوں کے لیے درکار ہیں جو ابھی باقی ہیں۔

    اس صورتحال کے باعث تعمیر نو پروگرام کے باقی ماندہ منصوبوں کی تکمیل میں مزید تاخیر کا خدشہ ہے۔

    21 برس بعد سوال وہی ہے

    8 اکتوبر 2005 کے زلزلے کو اب 21 برس گزر چکے ہیں۔

    اس عرصے میں ہزاروں عمارتیں دوبارہ تعمیر ہوئیں، اسکولوں اور ہسپتالوں نے دوبارہ کام شروع کیا، سڑکیں بحال ہوئیں اور متاثرہ علاقوں میں زندگی بڑی حد تک معمول پر آئی۔

    لیکن تباہی کا حجم اتنا بڑا تھا کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود تعمیر نو کے تمام اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔

    ایک طرف زلزلے کے بعد ہونے والے نقصانات کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر تعمیر نو کا کام ہوا، تو دوسری طرف مالی وسائل کی کمی نے باقی ماندہ منصوبوں کی رفتار کو متاثر کیا۔

    اکیس برس بعد زلزلے کی یاد صرف ان خاندانوں تک محدود نہیں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، بلکہ ان نامکمل منصوبوں میں بھی موجود ہے۔

    ٭٭٭

    Share this content: