اسلام آباد/ کاشگل نیوز
جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن، سینئر قانون دان اور امیدوار اسمبلی نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا۔ خاندانی ذرائع نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے انہیں رات تقریباً دو بجے حراست میں لیا۔
خاندانی ذرائع کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں سمیت پولیس نفری دو گاڑیوں میں ان کی رہائش گاہ پہنچی، جن میں ایک نجی گاڑی بھی شامل تھی۔ بعد ازاں نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کو حراست میں لے کر سیون ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ کی جانب سے نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا نام گزشتہ کئی ماہ سے فورتھ شیڈول میں شامل ہے۔ تاہم، ان کی گرفتاری کی وجوہات اور قانونی بنیاد کے حوالے سے تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کا تعلق منگ، ضلع سدھنوتی، پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے ہے۔ وہ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی سینئر رکن ہیں اور طویل عرصے سے بنیادی انسانی حقوق، جمہوری اقدار، شہری آزادیوں اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
پاکستان زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں بھی وہ شہری حقوق کے تحفظ اور جمہوری اصولوں کی حمایت کرتی رہی ہیں۔
نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ ان سیاسی و سماجی شخصیات میں بھی شامل ہیں جو چند ماہ قبل اپوزیشن قیادت، سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کے ہمراہ راولاکوٹ جا رہی تھیں، تاہم پولیس نے انہیں کہوٹہ کے مقام پر روک دیا تھا۔
ان کی گرفتاری کے بعد قانونی و سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار ہے۔ پولیس یا متعلقہ حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے پر گرفتاری کے اسباب اور قانونی کارروائی سے متعلق صورتحال واضح ہو سکے گی۔
Share this content:


