جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے 14 اکتوبر 2026ء کو ایک اہم اجلاس کے بعد نیا اعلامیہ جاری کر دیا ہے، جس میں عوامی مشکلات اور تاجر برادری کی اپیل پر 10 روز سے جاری مکمل لاک ڈاؤن کو ‘سمارٹ لاک ڈاؤن’ میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے ہفتے میں 3 دن (بدھ، جمعرات اور جمعہ) کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ البتہ باقی دنوں میں مکمل لاک ڈاؤن رہے گا اور صرف میڈیکل اسٹورز، ہسپتال اور ہاٹل کھلے رہیں گے۔ گڈز ٹرانسپورٹ کو بدھ، جمعرات اور جمعہ کے دن کھانے پینے کی اشیاء لانے کی اجازت ہوگی جبکہ بلڈنگ مٹیریل کی ترسیل پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
اعلامیے میں شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ 5 جون 2026ء سے ریاست بھر بالخصوص راولاکوٹ، پونچھ یونیورسٹی، پونچھ میڈیکل کالج اور سکول و ہاسٹلز پر پاکستانی فورسز نے قبضہ کر رکھا ہے۔ کمیٹی نے فورسز سے تعلیمی ادارے فوری خالی کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ طلبہ و طالبات کا تعلیمی حرج نہ ہو۔ تعلیمی نقصانات کے پیشِ نظر کمیٹی نے رضاکارانہ طور پر عارضی تعلیمی مراکز اور کلاسز شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
بیار، چیڑ اور دیار کے درختوں کی کٹائی اور منتقلی پر مکمل پابندی رہے گی، تاہم ہل والے ٹریکٹر کو زرعی مقاصد کے لیے اجازت دی گئی ہے۔
فورسز اور انتظامیہ کی ایماء پر کی جانے والی ‘امن ریلیوں’ کو دغا بازی اور عوامی یکجہتی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے عوام سے ان کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
کمیٹی نے 12 اکتوبر 2026ء کو تحصیل مینڈلہ (ہجیرہ) میں مائنز دھماکے میں شہید ہونے والے 4 نوجوانوں، اور پونچھ/باغ میں شہید ہونے والے دیگر افراد (محمد کبیر، صادق آباد؛ اشفاق خان، رِیڑہ باغ/مٹان) کی عظیم قربانیوں پر گہرے دکھ اور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعلامیے میں وکیل رہنما نیلہ ارشاد ایڈوکیٹ، مظفرآباد سے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ عزرہ عالم کی گرفتاری اور 4 سالہ بچے محمد کیانی کو فور تھ شیڈول میں شامل کرنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ وہ پرامن اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے لیکن حکمران طبقات کی جانب سے تاحال کوئی سنجیدہ یا نتیجہ خیز مذاکراتی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ آئندہ کا مکمل لائحہ عمل باہمی مشاورت کے بعد جاری کیا جائے گا۔
Share this content:


