پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے لئے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج راولاکوٹ کی عمارت اور ہاسٹلز پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے قیام اور کنٹرول کے دوران ادارے کو لاکھوں روپے کے مالی و بنیادی ڈھانچے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کالج پرنسپل کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ضلع پونچھ کو جمع کروائی گئی عبوری رپورٹ کے مطابق فورسز کی آمد کے بعد کالج کی املاک کی توڑ پھوڑ، سامان کی چوری اور تعلیمی نظام کی معطلی سے اب تک کا تخمینہ تقریباً 60 لاکھ روپے سے زائد لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 6 جون 2026ء سے فورسز کالج میں رہائش پذیر تھیں، جبکہ 27 جولائی 2026ء کے بعد ادارے کا مکمل کنٹرول فورسز کے حوالے کر کے عملے اور اساتذہ کا داخلہ روک دیا گیا۔ 15 ستمبر کو پرنسپل اور عملے کو معائنے کے لیے بھی شرائط کے ساتھ داخلے کی اجازت دی گئی۔
ہاسٹل میں مقیم طلبہ اور اساتذہ کے کمروں کے تالے توڑ کر بستر، کپڑے، برتن، گیس سلنڈر، لیپ ٹاپ، ایل ای ڈی ٹی وی، ایل سی ڈی، ساؤنڈ سسٹم، نقدی اور دیگر ذاتِ سامان غائب پائے گئے۔
ایڈمن بلاک، لائبریری (جس میں 7 ہزار سے زائد کتب ہیں)، لیبارٹریز اور کلاس رومز کے تالے ٹوٹے ہوئے پائے گئے۔ لائبریری اور لیبارٹری کا سامان بکھرا ہوا تھا اور دو کمپیوٹر لیپ ٹاپ بھی غائب تھے۔
کالج کے خوبصورت صحن، گراس اور لان کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پارکنگ میں کھڑی کالج بس (GX021) کا شیشہ توڑ کر اس کی بیٹری اور ٹول باکس نکال لیا گیا اور اسے پانی لانے کے لیے بے دردی سے استعمال کیا گیا۔
پورٹ میں پرنسپل نے انکشاف کیا کہ طلبہ کی بیٹھنے والی 1,000 سے زائد نئ اور پرانی لکڑی کی کرسیاں اور فرنیچر جلا کر کھانا پکانے یا ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔
کالج کے تمام سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی سسٹم کی ہارڈ ڈسک اور ایل سی ڈی ڈیوائسز غائب ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر پرنسپل نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "جب میں یہ رپورٹ لکھ رہا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، جس ادارے کو اساتذہ اور عملے نے اپنا خون جلا کر آزاد کشمیر کا سب سے خوبصورت کالج بنایا تھا، آج وہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے اور طلبہ کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔”
پرنسپل نے فورسز کو فوری طور پر کسی متبادل جگہ منتقل کرنے اور کالج کا تعلیمی ماحول بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
Share this content:


