بلوچستان میں بارودی مواد کے دھماکے سے پولیس اسٹیشن تباہ ہوگئی ہے جبکہ ایک کمشنر کو مسلح افرادنے اغوا کرلیا ہے ۔
ضلع چاغی کے علاقے یک مچھ میں نامعلوم مسلح افراد نے کارروائی کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن کی عمارت کو بارودی مواد سے اڑا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ آج صبح تقریباً ساڑھے چار بجے پیش آیا جب مسلح افراد نے پولیس تھانے کو اپنی تحویل میں لے کر وہاں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا اور ریموٹ کنٹرول یا ٹائمر کے ذریعے دھماکہ کر دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ کسی کی زخمی یا جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تھانے پر حملے کے بعد یک مچھ بازار میں سکیورٹی کی غرض سے نصب متعدد کیمروں کو بھی مسلح افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ کی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے، تاہم ضلع چاغی کے اس خطے میں بلوچ آزادی پسند مسلح قوتیں سرگرم عمل ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اس پٹی پر کوئٹہ تفتان تجارتی شاہراہ پر عسکری و تجارتی نقل و حرکت کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب ضلع خاران اور کوئٹہ کو ملانے والی اہم شاہراہ پر مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران کارروائی کرتے ہوئے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا ہے۔
یہ واقعہ برشونکی کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب وہ خاران میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے لیے سفر کر رہے تھے۔
حالیہ عرصے میں بلوچستان بھر میں بلوچ آزادی پسند مسلح قوتوں کے اثر و رسوخ، رسائی اور کنٹرول میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے بعد بلوچستان کے بیشتر حصوں میں نام نہاد حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
شاہراہوں پر مسلح افراد کی نقل و حرکت اور اہم سرکاری حکام کی پکڑ دھڑ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاستی مشینری زمینی حقائق پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سول انتظامیہ کے متعدد افسران کو اس سے قبل بھی اغوا کیا جا چکا ہے، جنہیں بعد ازاں اس سخت شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ پاکستانی فوج کی ایما پر عوامی مفادات کو نقصان پہنچانے یا ریاستی عزائم کو آگے بڑھانے سے گریز کریں گے۔
آزادی پسند حلقوں اور زمینی حقائق کا مؤقف رہا ہے کہ جہاں جہاں فورسز اور ریاستی طاقت کا کام ہے، وہ خود سامنے آئیں اور براہِ راست مزاحمت کا سامنا کریں، جبکہ سول انتظامیہ کے افسران کو مورچہ بند جنگ یا عوامی مفادات کے خلاف استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
کمشنر رخشان ڈویژن کا یہ اغوا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس نے بلوچستان میں عسکری و انتظامی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
Share this content:


