راولاکوٹ اور جنوبی باغ پر پاکستانی فورسز کا گھیراؤ، ڈرون حملے و فائرنگ جاری

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) کی جانب سے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کی تیاریوں کے اعلان کے بعد پاکستانی فورسز کی جانب سے راولاکوٹ اور جنوبی باغ میں بدترین ملٹری آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

راولاکوٹ شہر، پندی ٹوپی، چھترہ اور کوپرا کے علاقے اس وقت فورسز کی جانب سے بھاری ہتھیاروں سے کی جانے والی شدید فائرنگ کی زد میں ہیں۔

مقامی ذرائع اور سویلینز کی جانب سے فلم بند کی گئی متعدد ویڈیوز میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جس سے پوری وادی گونج رہی ہے اور عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

فورسز نے جنوبی باغ میں کوپرا چوکی اور ملحقہ علاقوں پر ڈرون حملوں کی سیریز شروع کر رکھی ہے۔ صبح سے اب تک آبادی اور پرامن شہریوں کے علاقوں پر 6 سے زائد ڈرون حملے کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز نے تتو میں ایک گیسٹ ہاؤس / رہائشی مکان پر ایل ایم جی (LMG) گن نصب کر کے ارد گرد کی آبادی پر براہِ راست اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی ہے۔

اس سے قبل ایف سی کی 30 گاڑیاں، 15 رینجرز کی گاڑیاں، پولیس کے ڈالے اور بھاری مشینری (شاول) گاؤں بھرکہ کے راستے راولاکوٹ میں جاری دھرنے کی طرف تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق فورسز کی یہ شدید بمباری، فوجی ناکہ بندی اور ڈرون حملے عوام کو مظفرآباد مارچ سے روکنے اور چار ماہ سے جاری پرامن تحریک کو جبر کے ذریعے دبانے کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ چار مہینوں کے دوران فورسز کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں 100 سے زائد نہتے مظاہرین، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد جیلوں میں قید اور سینکڑوں جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ اس تمام تر ریاستی جبر کے باوجود عوام کا جوش و خروش قائم ہے اور وہ لانگ مارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

Share this content: