پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جاری چار ماہ طویل پرامن عوامی تحریک پر ریاستی دباؤ اور فوجی گھیراؤ شدید تر ہو گیا ہے۔ جنوبی باغ سے موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ایف سی کی مزید 30 گاڑیاں جنوبی باغ پہنچ چکی ہیں، جبکہ ایک شاول مشین، رینجرز کی 15 گاڑیاں، آزاد کشمیر پولیس کے 2 ویگو ڈالے اور 6 ہائی ایس گاڑیاں اس وقت گاؤں ‘بھرکہ’ کے راستے راولاکوٹ میں جاری دھرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
یہ پیش قدمی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JKJAAC) نے آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے، جس کی حتمی تاریخ کا اعلان جلد متوقع ہے۔
راولاکوٹ سمیت مختلف اضلاع میں عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے گزشتہ چار مہینوں سے مسلسل سڑکوں اور دھرنوں میں موجود ہیں۔
ریاستی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں اب تک 100 سے زائد نہتے مظاہرین، جن میں معصوم بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں۔
فورسز کے ہاتھوں سینکڑوں افراد جبری طور پر لاپتہ کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہزاروں پرامن شہریوں کو جیلوں میں قید کر دیا گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مظفرآباد مارچ کی خبروں کے بعد قابض سیکیورٹی فورسز کی اتنی بڑی تعداد میں دھرنے کی طرف پیش قدمی کسی بڑے فوجی آپریشن یا کریک ڈاؤن کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، جس سے خطے میں صورتِ حال انتہائی کشیدہ اور تشویشناک ہو چکی ہے۔
Share this content:


