سپین میں مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے فوراً بعد میڈرڈ کے جنوب میں واقع مورا اور اورگاث کے درمیان دو تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی ہیں۔
اب تک سامنے آنے والی معلومات کے مطابق ریلوے آپریٹر ادیف کا کہنا ہے کہ حادثہ رینفے کی ایک ٹرین اور ایریو کمپنی کی ایک ٹرین کے درمیان پیش آیا، جو میڈرڈ اور سیویل کے درمیان سروس چلاتی ہے۔
ادیف کے مطابق اس روٹ پر چلنے والی تمام ٹرینوں کو مختلف سٹیشنوں پر روک دیا گیا ہے۔
ہسپانوی ایمرجنسی سروسز کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی کارروائیوں کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں متعدد فائر بریگیڈ یونٹس، تین ہیلی کاپٹر اور دو موبائل انتہائی نگہداشت یونٹس شامل ہیں۔
ہسپانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پیج نے بتایا ہے کہ ٹرین حادثے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 68 ہو گئی ہے۔
متعدد زخمی اب بھی اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں اور ان میں سے درجنوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ہسپانوی وزیرِ ٹرانسپورٹ آسکر پوینتے نے سپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے جنوب میں اوردا کے قریب پیش آنے والے ٹرین حادثے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ ’واقعی ناقابلِ یقین‘ ہے۔
پوینتے کے مطابق ایک کمپیوٹر خرابی کے باعث ابتدائی طور پر چلتی ہوئی چھ ٹرینیں روک دی گئی تھیں، جن میں وہ دو ٹرینیں بھی شامل تھیں جو بعد میں آپس میں ٹکرا گئیں۔
انھوں نے بتایا ’جب نظام میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو کنٹرول سینٹر معاملات سنبھال لیتا ہے۔‘ ان کے مطابق بعد ازاں کنٹرول سینٹر نے ہی ٹرینوں کو دوبارہ روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس دوران کوئی رفتار کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔
پوینتے نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ناقابلِ فہم حالات میں‘ کیا گیا تھا۔
ان کے بقول اسی فیصلے کے نتیجے میں رینفے کی ٹرین آگے پٹری پر کھڑی ایریو کی ٹرین سے جا ٹکرائی۔
Share this content:


