پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر ایوارڈز 2026: ناکامیوں میں نمایاں کارکردگی کا جشن

ذوالفقار علی
(سابق بی بی سی صحافی نامہ نگار)

حکمرانی، عوامی اخراجات، احتساب اور عوامی خدمات کا ایک طنزیہ جائزہ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ایسے منفرد ایوارڈز کا انعقاد کیا گیا ہے جو کامیابیوں کے بجائے طویل عرصے سے چلی آ رہی حکومتی ناکامیوں، انتظامی بدحالی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ طنزیہ جائزہ خطے کے ان دیرینہ مسائل کو اجاگر کرتا ہے جن کی جانب ناقدین مسلسل توجہ دلاتے آئے ہیںجہاں عوامی پیسہ مسلسل خرچ ہوتا ہے، وعدوں کا طویل سلسلہ جاری رہتا ہے، مگر احتساب اور جواب دہی کا نام و نشان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

سابق بی بی سی صحافی و نامہ نگار ذوالفقار علی کی تحریر کردہ اس جامع رپورٹ میں خطے کے مہنگے سیاسی نظام، اخراجات کی مشکوک ترجیحات، سیاسی سرپرستی، کمزور عوامی خدمات اور حکومتی دعوؤں کے برعکس عوام کی روزمرہ زندگی کے تلخ حقائق کے درمیان پائی جانے والی وسیع خلیج کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

  1. 1۔عوامی اخراجات اور ترقیاتی منصوبے: 200 ارب کا نظام اور بے بس عوام

خطے کا انتظامی و سیاسی نظام سالانہ تقریباً 200 ارب روپے صرف تنخواہوں، الاؤنسز، پنشن اور انتظامی اخراجات کی مد میں خرچ کرتا ہے، جبکہ عامتہ الناس بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

مالی انحصار: اپنی آمدن ناکافی ہونے کے باعث یہ نظام اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی ٹیکس دہندگان کے وسائل پر مکمل انحصار کرتا ہے۔ گذشتہ سال زراعت، معدنیات، سیاحت اور جنگلات سمیت سات اہم شعبوں سے محض 62 کروڑ روپے آمدن حاصل ہوئی، جبکہ ان پر تنخواہوں کی مد میں 5.5 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

مظفرآباد بمقابلہ اسلام آباد: مظفرآباد کو دارالحکومت کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود حکومتی امور کا بڑا حصہ اسلام آباد کے ‘کشمیر ہاؤس’ سے چلایا جاتا ہے، جہاں سرکاری عمارتیں اور کشمیر کونسل کے لاجز مبینہ طور پر ذاتی و نجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

ترقیاتی فنڈز: بنیادی ڈھانچے کے لیے پاکستان کی جانب سے ملنے والی گرانٹس اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے استعمال پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں کے علاوہ عام ترقیاتی منصوبے کاغذوں کی حد تک محدود ہیں۔

  1. 2۔ سیاسی و انتظامی کارکردگی: غیر آئینی تقرریاں اور احتساب سے استثنیٰ

رپورٹ میں سیاسی و انتظامی ڈھانچے کی خرابیوں کو نمایاں کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ، اسپیکر اسمبلی اور قائم مقام صدر کے منصب کے حصول کے طریقۂ کار کو ‘غیر آئینی’ قرار دیا گیا ہے۔

بدعنوانی اور میرٹ کی پامالی: سرکاری تقرریوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑاتے ہوئے برادری ازم اور سیاسی سفارش کو فروغ دیا گیا ہے۔ خفیہ فنڈز کا مبینہ غلط استعمال اور بدعنوانی عام ہے، لیکن احتساب کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔

عوام سے لاتعلقی: سنگین عوامی مسائل حل طلب ہونے کے باوجود حکومتی شخصیات کے غیر ملکی دورے جاری ہیں۔ عام شہری مہنگائی اور معاشی بحران کی چکی میں پس رہے ہیں، جبکہ اشرافیہ شاہانہ گاڑیوں کے قافلوں اور تاحیات مراعات سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔

آزادیِ اظہار پر قدغن: قانون میں ایسی ترامیم کی گئی ہیں جن کے تحت حکومتی اشرافیہ پر تنقید کرنے والوں کو سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناقص حکمرانی کے مقابلے میں تنقید کو بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔

  1. 3۔ زمین، جنگلات اور ماحولیات کی تباہی

خطے کے قیمتی قدرتی وسائل کو منظم طریقے سے زبوں حالی کا شکار بنایا جا رہا ہے:

مبینہ قبضے: ہجرت کرنے والوں کی چھوڑی ہوئی متروکہ اراضی، جنگلاتی اراضی، خالصہ سرکار اور اوقاف کی زمینوں پر قبضے کے سنگین معاملات رپورٹ ہوئے ہیں۔

جنگلات کا صفایا: دیودار، کیل اور فر کے قیمتی درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے۔ لکڑی کی اسمگلنگ کرنے والے مافیا کو مبینہ طور پر سیاسی نظام کی پشت پناہی حاصل ہے۔

ماحولیاتی بحران: سیاحتی مقامات، جنگلات اور گلیشیئرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے، لیکن ماحولیاتی تحفظ کو حکومت نے ثانوی حیثیت دے رکھی ہے۔

  1. 4۔ تعلیم، صحت اور عوامی خدمات کا زوال

تعلیمی نظام کا بحران: تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے بجائے اسے سیاسی سرپرستی اور سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نویں جماعت کے امتحانات میں 71 فیصد طلبہ فیل ہو گئے۔ کئی اسکول ایسے ہیں جہاں عملہ موجود ہے مگر طلبہ کی تعداد صفر ہے، یا مناسب عمارتیں اور لیبارٹریز ہی دستیاب نہیں۔

صحت اور بنیادی سہولیات: صحت کے مراکز صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہیں جہاں ادویات اور آلات غائب ہیں۔ دارالحکومت مظفرآباد کی 80 فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، جبکہ مظفرآباد کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل ہونے دیا گیا ہے۔ وعدہ کی جانے والی ‘گرین الیکٹرک بس سروس’ بھی سڑکوں پر نہ آ سکی۔

  1. 5۔ روزگار، غربت اور مہنگائی

خطے کی تقریباً نصت آبادی غربت کا شکار ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کو مجبوری کے تحت امداد دی جا رہی ہے۔

دوسری طرف، عام عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہیں، لیکن حکومتی سطح پر سبسڈی والی گندم عام شہریوں کے بجائے صدر، وزرا، اراکین اسمبلی اور بیوروکریسی میں تقسیم کی جاتی ہے، جس میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے اسکینڈلز بھی سامنے آئے ہیں۔

6۔ کشمیر کاز اور خصوصی ادارے

    رپورٹ کے آخری حصے میں ان اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو ‘کشمیر کاز’ کے نام پر قائم کیے گئے ہیں (جیسے جموں و کشمیر لبریشن سیل اور کشمیر پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ)۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ادارے صرف حکمران جماعتوں کے حامیوں کو نوازنے، تنخواہوں، لگژری گاڑیوں اور پنشن کی فراہمی کا ذریعہ ہیں۔

    تلخ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کاز کے نام پر سیاسی وفاداروں کو نوازنے والا یہ نظام آج عوام سے یہ بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور کرتا ہے کہ حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے عملی طور پر کیا کیا گیا ہے؟

    اختتامیہ

    حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، وزرا اور افسران آتے جاتے رہتے ہیں، وعدے کیے جاتے ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں اور نئے منصوبوں کے اعلانات ہوتے ہیں—مگر سوال ہنوز برقرار ہیں:

    پیسہ کہاں جا رہا ہے؟
    ذمہ دار کون ہے؟
    عوام کو جواب کون دے گا؟
    اور عام شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری کب آئے گی؟

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں یہ ایوارڈز طنزیہ ضرور ہیں، مگر ان کے پیچھے اٹھائے گئے سوالات طنز نہیں، بلکہ ایک سنگین حقیقت ہیں۔

    ٭٭٭

    Share this content: