اسٹوری : فرحان طارق
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں بندی میں 29 اکتوبر کی رات ایک دھماکے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق جبکہ ایک بچی زخمی ہو گئی۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اسے گیس سلنڈر پھٹنے کا واقعہ قرار دیا گیا، تاہم متاثرہ خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی۔
واقعے میں اپنے خاندان کے چار افراد کھونے والے باسط علی کے لیے یہ خبر ایک ایسا صدمہ تھی جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا۔ وہ اپنی ڈیوٹی پر موجود تھے اور کھانا کھانے کے بعد معمول کے مطابق گھر فون کیا تھا کہ دوسری جانب سے آنے والی آواز نے ان کی دنیا بدل دی۔
باسط علی بتاتے ہیں کہ فون ان کی بہن نے اٹھایا، لیکن وہ اس قدر رو رہی تھیں کہ ابتدا میں انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا۔ کچھ دیر بعد انہیں معلوم ہوا کہ گھر میں ایک حادثہ پیش آیا ہے اور ان کے خاندان کے افراد اس میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔
’’کچھ وقت گزرنے کے بعد مجھے بتایا گیا کہ کوئی چیز پھٹی تھی، جس کے نتیجے میں میری دادی، چچی اور ان کے بچے جاں بحق ہو گئے۔ ایک بچی زخمی ہوئی، جسے ضلع باغ کے اسپتال لے جایا گیا۔ بعد میں ایک لڑکے کی حالت زیادہ خراب ہونے پر اسے مظفرآباد منتقل کیا گیا۔‘‘
’باورچی خانے کی دیواروں پر چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے‘
باسط علی کے مطابق، اگلے روز تدفین کے وقت وہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو انہوں نے گھر کے باورچی خانے کا معائنہ کیا۔ وہاں جو منظر انہوں نے دیکھا، اس نے ان کے ذہن میں کئی سوالات پیدا کر دیے۔
وہ بتاتے ہیں کہ باورچی خانے کی دیواروں پر جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے سوراخ تھے، جبکہ وہاں موجود برتنوں پر بھی سوراخ دکھائی دے رہے تھے۔
ان کے بقول، باورچی خانے کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ وہاں کوئی شدید نوعیت کا واقعہ پیش آیا ہے، تاہم وہ خود اس کی اصل وجہ کے بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف دعوے سامنے آئے۔ بعض افراد نے اسے گیس سلنڈر پھٹنے کا واقعہ قرار دیا، جبکہ کچھ لوگوں نے دوسری وجوہات بیان کیں۔ باسط علی کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے لیے یہ جاننا اب بھی ضروری ہے کہ حقیقت میں کیا چیز پھٹی تھی اور اس حادثے کی وجہ کیا بنی۔
’ہمارے چچا کے پاس چھوٹا گیس سلنڈر بھی نہیں تھا‘
متاثرہ خاندان کے ایک رشتہ دار کے مطابق، ان کے چچا کراچی میں ایک ہوٹل کے تنور پر مزدوری کرتے تھے اور ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کے چچا کے پاس چھوٹا گیس سلنڈر بھی نہیں تھا اور آس پاس رہنے والے لوگ بھی اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
خاندان کے افراد اس بات پر زور دیتے ہیں کہ واقعے کی وجہ کے بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے تمام متعلقہ شواہد کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
باورچی خانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
باسط علی کے مطابق، واقعے کے کچھ وقت بعد باورچی خانے کی ایک ویڈیو فیس بک پر وائرل ہوئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو وہاں موجود کسی دوسرے شخص نے بنائی تھی، نہ کہ ان کے خاندان کے کسی فرد نے۔
وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت خاندان کے افراد شدید صدمے میں تھے اور ان کے لیے ویڈیو بنانے یا سوشل میڈیا پر کچھ شیئر کرنے کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔
باسط علی کے مطابق، وائرل ویڈیو میں باورچی خانے کی دیواروں اور برتنوں پر موجود سوراخ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ شواہد واقعے کی نوعیت کو سمجھنے میں اہم ہو سکتے ہیں۔
وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس رات کیا ہوا تھا اور چار افراد کی جانیں لینے والے اس حادثے کے پیچھے کیا عوامل کارفرما تھے۔
خاندان کے لیے جواب طلب سوالات
ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت نے لواحقین کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ ایک بچی کے زخمی ہونے کے بعد خاندان کی پریشانی مزید بڑھ گئی۔
باسط علی کے لیے یہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایسا سانحہ ہے جس کی اصل وجہ جاننا ان کے خاندان کا حق ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ باورچی خانے کی حالت، دیواروں اور برتنوں پر موجود سوراخوں، وائرل ویڈیو اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لے کر حقائق سامنے لائے جائیں۔
تاحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر دھماکے کی اصل وجہ کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے متعلقہ حکام شواہد کی جانچ اور واقعے کی مکمل تحقیقات کریں۔
انتباہ: اس فیچر میں متاثرہ خاندان کے رشتہ دار اور عینی شاہد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے گفتگو کی ہے۔ ان کی درخواست اور شناخت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز
Share this content:


