ذوالفقار علی
بی بی سی کے سابق ایوارڈ یافتہ صحافی
ترہویں ترمیم کے بعد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران اشرافیہ نی اپنی مراعات میں غیر معمولی اضافہ کیا، لگژری گاڑیاں خریدیں، اور پاکستان پر انحصار غیر معمولی طور پر بڑھ گیا۔ اس ترمیم کے بعد جہاں خطے میں بداعنوانی میں غیر معمولی اضافہ ہوا وہیں خطے کی سیاسی و انتظامہ اشرافیہ وہیں سیاسی اور انتظامی اشرافیہ عملاً جواب دہی اور احتساب سے آزاد ہو گئی۔
اختیارات کی منتقلی کے آٹھ سال بعد بھی عام لوگوں کے لیے صرف وعدے ملے جبکہ حکمرانوں پر تنقید کرنے پر سات سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے جون 2018 میں تیرہویں آئینی ترمیم منظور کی۔ اس ترمیم کے تحت کشمیر کونسل کے انتظامی، قانون سازی اور مالی اختیارات خطے کی حکومت کو منتقل کر دیے گئے۔
آٹھ سال بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ ان اختیارات سے عام لوگوں کو فائدہ پہنچا یا سیاسی اور انتظامی اشرافیہ مزید مضبوط ہوئی؟87 ارب روپے آمدن، لیکن غیر ترقیاتی اخراجات 230 ارب روپے۔
تیرہویں آئینی ترمیم سے پہلے ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری کشمیر کونسل کے پاس تھی۔ مالی سال 2017-18 میں کونسل نے 23 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔ اس میں سے 5 ارب 26 کروڑ روپے بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں تھے، جو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کو ملے، جبکہ تقریباً 18 ارب روپے براہِ راست ٹیکسوں سے حاصل ہوئے اور کونسل کے کھاتے میں گئے۔
کونسل براہِ راست ٹیکسوں کی آمدن کا 20 فیصد اپنے انتظامی اخراجات پورے کرنے اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے رکھے جبکہ 14 ارب 14 کروڑ روپے خطے کی حکومت کو منتقل کر دیے گئے۔
تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت مالی اختیارات خطے کی حکومت کو منتقل ہونے کے بعد کشمیر کونسل ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ دار نہیں رہی۔ تاہم، اس تبدیلی سے خطہ مالی طور پر خود انحصار نہیں ہو سکا۔ حکومت اتنی آمدن پیدا کرنے میں ناکام رہی کہ اپنے انتظامی اخراجات پورے کر سکے، چہ جائیکہ اپنے وسائل سے ترقیاتی منصوبوں یا عوامی خدمات پر خرچ کرتی۔
مالی سال 2025-26 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے تقریباً 70 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ آٹھ سال میں ٹیکس آمدن میں صرف 47 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس رقم میں تقریباً 20 ارب روپے بینکوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس کے ہیں۔ اگرچہ یہ ٹیکس خطے کی حکومت جمع کرتی ہے، لیکن اس کے قانونی اختیار پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، کیونکہ بینک پاکستانی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
ٹیکس سمیت مالی سال 2025-26 میں خطے کی حکومت کی مجموعی آمدن 87 ارب روپے رہی۔ اس میں سے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن صرف 62 کروڑ روپے تھی۔ ان ذرائع میں زراعت، جنگلات، معدنیات، ماہی گیری اور جنگلی حیات، پولٹری اور ڈیری فارمنگ، سیاحت اور صنعت شامل ہیں۔ ان شعبوں کے محکموں کی تنخواہوں، الاؤنسز اور آپریشنل اخراجات پر 5 ارب 50 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
حکومت نے بجلی سے 15 ارب روپے منافع بھی کمایا۔ تاہم، یہ بجلی خطے کی حکومت خود پیدا نہیں کرتی بلکہ پاکستان کی حکومت اسے رعایتی نرخوں پر فراہم کرتی ہے۔ خطے کی حکومت یہ بجلی مقامی صارفین کو فروخت کرکے منافع حاصل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹیلی کمیونی کیشن ٹیکس کی مد میں ایک ارب روپے حاصل ہوئے۔
مالی سال 2025-26 میں خطے کے غیر ترقیاتی اخراجات 230 ارب روپے رہے، جن میں سے تقریباً 195 ارب روپے سیاسی اور انتظامی نظام چلانے پر خرچ ہوئے۔ ان اخراجات میں تنخواہیں، الاؤنسز، پنشن اور آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔اس خطے میں سیاسی اور انتظامی نظام غیر معمولی طور پر پھیل چکا ہے، لیکن اس کی کارکردگی ان بھاری اخراجات کا جواز فراہم نہیں کرتی۔
انتظامی اخراجات پورا کرنے اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے پاکستان مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی حکومت نے خطے کو 140 ارب روپے کی ویری ایبل گرانٹ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 32 ارب روپے فراہم کیے۔
تاہم، ان گرانٹس کے استعمال میں وسیع پیمانے پر بدعنوانی ہوتی ہے۔ گندم کی سبسڈی کے نام پر ہر سال اربوں روپے کی کرپشن ہوتی ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی وسیع پیمانے پر بدعنوانی ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے جولائی 2016 سے جون 2026 تک بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے خطے کی حکومت کو 260 ارب روپے سے زیادہ فراہم کیے، لیکن زمین پر کوئی قابلِ ذکر منصوبہ دکھائی نہیں دیتا۔
اس کے برعکس، پاکستان نے اس خطے کی تعمیر و ترقی کے لیے الگ سے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت بھی اربوں روپے کے منصوبے مکمل کیے۔ بعض منصوبوں پر کام جاری ہے اور کئی نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کے نتائج زمین پر نظر آتے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کو بجلی کی سبسڈی کی مد میں 74 ارب روپے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت 10 ارب روپے کی امداد دی گئی۔ صحت کارڈ اور احساس اسکالرشپ پروگرام کے تحت بھی اربوں روپے فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے جامعات کو مالی معاونت دی گئی۔
مالی سال 2017-18 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے غیر ترقیاتی اخراجات 73 ارب روپے تھے، جو 2025-26 میں بڑھ کر 230 ارب روپے ہو گئے جس کی وجہ سے پاکستان کے ٹیکس دہندگان پر غیر معمولی بوجھ بڑھا۔
خطہ اپنی انتظامیہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی کافی آمدن پیدا نہیں کر سکا، لیکن سیاسی اور انتظامی اشرافیہ کی مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ یہ صورتِ حال خاص طور پر راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں کے دور میں نمایاں رہی۔
تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد 2018 سے 2023 کے درمیان سابق صدور کی مراعات میں ایک مرتبہ اور سابق وزرائے اعظم کی مراعات میں دو مرتبہ اضافہ کیا گیا۔
نومبر 2023 میں اتحادی حکومت نے سابق وزرائے اعظم کو مزید مراعات دیں۔ ان میں یہ سہولت بھی شامل تھی کہ وہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کی ملکیت میں موجود کسی بھی گیسٹ ہاؤس، سرکٹ ہاؤس یا ریسٹ ہاؤس میں مفت قیام کر سکتے ہیں، خواہ وہ خطے میں ہو یا پاکستان کے کسی دوسرے حصے میں۔
2016 سے 2023 کے درمیان صدر، وزیراعظم، وزرا اور بیوروکریٹس کے لیے تقریباً دو ارب روپے کی لگژری گاڑیاں خریدی گئیں، حالانکہ سرکاری گاڑیوں کے پول میں پہلے ہی ضرورت سے زیادہ گاڑیاں موجود تھیں۔
مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اعلیٰ سرکاری افسران کو سپر ایگزیکٹو الاؤنس اور ایگزیکٹو الاؤنس بھی دیے، جن کی رقم ڈیڑھ لاکھ سے چار لاکھ روپے ماہانہ تک تھی۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکومت کا نظام طویل عرصے سے اشرافیہ کے مفادات کے تابع رہا ہے۔ اس کا فائدہ بھی زیادہ تر اسی طبقے کو پہنچتا رہا، جبکہ عام لوگوں کو شہریوں کے بجائے رعایا سمجھا گیا۔ تیرہویں آئینی ترمیم کے بعد یہ طرزِ عمل مزید بے باک ہو گیا۔
حکمران اشرافیہ نے نہ پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسے کی زیادہ پروا کی اور نہ ہی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کی تکالیف اور قربانیوں کا لحاظ رکھا۔ ان لوگوں کی مشکلات اور قربانیوں کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کا طرزِ عمل ایسے بادشاہوں جیسا رہا جو دوسروں کی کمائی اس طرح خرچ کرتے ہیں، جیسے یہ رقم انہوں نے خود کمائی ہو۔
سیاسی اور انتظامی اشرافیہ نے خود کو ہر قسم کے احتساب سے بالاتر سمجھا اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام، پاکستانی حکومت اور ٹیکس دہندگان، گلگت بلتستان کے لوگوں یا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام میں سے کسی کے سامنے بھی خود کو جواب دہ نہیں سمجھا۔
اپنے وسائل سے آمدن بڑھانے میں ناکامی کی ایک مثال زراعت کا شعبہ ہے۔ مالی سال 2017-18 میں اس شعبے سے 80 لاکھ روپے آمدن ہوئی۔ سات سال بعد، مالی سال 2025-26 میں، اس محکمے کی تنخواہوں، الاؤنسز اور آپریشنل اخراجات پر ایک ارب 30 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود آمدن کم ہو کر صرف 50 لاکھ روپے رہ گئی۔ دوسرے شعبوں کی صورتِ حال بھی اس سے ملتی جلتی رہی۔
سیاسی اشرافیہ نے اپنے مفادات کے لیے آئینی شقوں میں تبدیلیاں بھی کیں اور آئین کی خلاف ورزی بھی کی۔
تیرہویں آئینی ترمیم کے مطابق وزرا کی تعداد 12 سے زیادہ نہیں ہو سکتی تھی۔ تاہم، 2023 میں انہی ارکان نے اس پابندی کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا جنہوں نے 2018 میں یہ ترمیم منظور کی تھی۔ اس تبدیلی سے ان کے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کو فائدہ پہنچا۔
2023 میں 53 ارکان پر مشتمل اسمبلی میں صرف 19 ووٹ لے کر اسپیکر منتخب کیا گیا اور وہی سپیکر قائم مقام صدر بنتے ہیں اور پھر غیر آئینی طور پر اس عہدے پر برقرار رہتے ہیں۔ اسی طرح سے ایک وزیراعظم نے اسپیکر کے عہدے سے استعفا دیے بغیر وزارتِ عظمیٰ کا انتخاب لڑا اور وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وزرارت اعظمی کا حلف اٹھانے کے بعد وہ دوبارہ سپیکر کا عہدہ سمبھالتے ہیں اور اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرتے ہیں۔
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ جب آئینی پابندیاں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہیں تو انہیں تبدیل کرنے یا نظرانداز کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔
30 اپریل 2025 کو چوہدری انوارالحق کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی بجٹ کے استعمال سے متعلق دستورالعمل کو قانون بنا دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھارت اور پاکستان جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے۔ اس دستورالعمل کے تحت لوکل گورنمنٹ کے ترقیاتی فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بجائے قانون ساز اسمبلی کے ارکان (ایم ایل ایز) کے ذریعے خرچ کیے جا رہے تھے۔
فروری 2025 میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی ہائی کورٹ نے اس دستورالعمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔ عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 1990 کے تحت یہ فنڈز منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہونے چاہییں۔
عدالت کے فیصلے پر عمل کرنے کے بجائے مخلوط حکومت نے اسمبلی سے قانون منظور کرا کے اسی طریقۂ کار کو دوبارہ نافذ کر دیا۔
نوآبادیاتی دور کے آزاد پینل کوڈ، 1860 کی دفعہ 505 میں 2023 میں ترمیم کی گئی۔ اس ترمیم کے تحت سیاسی اور انتظامی اشرافیہ پر تنقید کرنے پر سات سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
تیرہویں آئینی ترمیم کے تحت خطے کو منتقل کیے گئے اختیارات معیشت مضبوط بنانے، عوامی خدمات بہتر کرنے اور پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکے۔ اس کے بجائے خطے کی حکومت آج بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے پاکستان کی مالی امداد پر انحصار کرتی ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ دو ہزار اٹھارہ میں اختیارات منتقل ہوئے، بلکہ یہ ہے کہ ان اختیارات سے فائدہ کس نے اٹھایا: عوام نے یا سیاسی اور انتظامی اشرافیہ نے؟ اعداد و شمار اور مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ تیرہویں ترمیم کے بعد ان اختیارات کو عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے حکمرانوں کی مراعات بڑھانے کے لیے استعمال کیا گیا، جبکہ عوام کے پیسے کے استعمال پر کوئی مؤثر احتساب نہیں ہوا۔ اس طرزِ حکمرانی نے خطے کے نظام پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح کیا ہے۔
٭٭٭
Share this content:


