باغ کے گاؤں بندی میں دھماکہ: ’ہر طرف خون تھا، ہماری چچی کا چہرہ تک پہچانا نہیں جا رہا تھا‘

اسٹوری: فرحان طارق

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں بندی میں 29 اکتوبر کی رات ہونے والے ایک دھماکے نے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی جان لے لی۔ دھماکے کے بعد گھر میں بکھری لاشیں، دیواروں اور برتنوں پر پڑنے والے سوراخ اور ہر طرف پھیلا خون اس حادثے کی شدت بیان کر رہے تھے۔

اس رات جائے وقوعہ پر پہنچنے والی پہلی خواتین میں شامل سلمیٰ بیگم آج بھی ان مناظر کو یاد کرتے ہوئے خوف زدہ ہو جاتی ہیں۔ ان کے لیے یہ محض ایک دھماکہ نہیں تھا بلکہ اپنے ہی خاندان کے افراد کو اس حال میں دیکھنے کا ایک ایسا تجربہ تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں۔

سلمیٰ بیگم بتاتی ہیں کہ دھماکے کی آواز شام چھ سے سات بجے کے درمیان سنائی دی۔ ابتدا میں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ گھر کے اندر کیا ہوا ہے۔ جب وہ جائے وقوعہ پر پہنچیں تو وہاں دھویں کے درمیان تباہی کے ایسے مناظر تھے جنہوں نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔

ہمیں لگا گھر میں آگ لگ گئی ہے

سلمیٰ بیگم کے مطابق، دھماکے کے بعد جب وہ گھر پہنچیں تو ہر طرف دھواں پھیلا ہوا تھا اور لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ مرنے والوں میں ان کی دادی، چچی اور کزن شامل تھیں۔

وہ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں:

”جب ہم وہاں پہنچے تو بہت دھواں تھا۔ لاشیں بکھری پڑی تھیں۔ ہر طرف خون تھا۔ بہت خوفناک مناظر تھے۔ ہم نے سوچا کہ گھر میں آگ لگ گئی ہے۔ ہم شور مچاتے ہوئے باہر نکلے اور کہا کہ گھر کو چھوڑ دو، اسے جلنے دو۔“

ان کے مطابق، ابتدائی طور پر انہیں یہ اندازہ نہیں ہو سکا کہ گھر میں ہونے والی تباہی کی اصل وجہ کیا تھی۔ دھماکے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ شاید گھر میں آگ لگ گئی ہے۔

ہماری چچی پہچانی نہیں جا رہی تھیں

سلمیٰ بیگم کے لیے سب سے تکلیف دہ منظر اپنی چچی کی لاش دیکھنا تھا۔ ان کے بقول، دھماکہ اتنا شدید تھا کہ چچی کے چہرے اور جسم کو بری طرح نقصان پہنچا تھا اور انہیں پہچاننا بھی مشکل ہو رہا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ چچی کے جسم کے متاثرہ حصوں سے گوشت اکٹھا کرکے شاپروں میں جمع کیا گیا۔ گھر کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا اور برتنوں تک میں سوراخ ہو گئے تھے۔

سلمیٰ بیگم کہتی ہیں کہ ان کی دادی کے سر پر بھی چوٹ لگی تھی، جس سے خون بہہ رہا تھا۔ ایک کم سن بچی کے کندھے بھی بری طرح متاثر ہوئے تھے، جبکہ دیگر افراد کے جسموں پر بھی سوراخ دکھائی دے رہے تھے۔

ان کے لیے یہ مناظر اس قدر ہول ناک تھے کہ وہ انہیں بیان کرتے ہوئے بار بار اسی لمحے کی طرف لوٹ جاتی ہیں جب وہ اپنے پیاروں کو اس حالت میں دیکھ کر بے بسی محسوس کر رہی تھیں۔

کچن سے باہر بے ہوش پڑی کزن

دھماکے میں زخمی ہونے والی ان کی ایک کزن کچن سے باہر بے ہوش پڑی تھی۔ سلمیٰ بیگم کے مطابق، دھماکے کے بعد گھر کے اندر کی صورتِ حال ایسی تھی کہ ابتدا میں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ایک طرف خاندان کے افراد کی لاشیں بکھری پڑی تھیں اور دوسری طرف زخمی کزن بے ہوشی کی حالت میں موجود تھی۔ دھویں، خون اور تباہی کے درمیان یہ سمجھنا مشکل تھا کہ کس کو پہلے سنبھالا جائے اور کیا کیا جائے۔

سلمیٰ بیگم کی بیان کردہ تفصیلات اس حادثے کے ان انسانی پہلوؤں کو سامنے لاتی ہیں جو محض ہلاکتوں کی تعداد بتانے سے واضح نہیں ہوتے۔ ایک ہی خاندان کے افراد کی اچانک موت نے ان کے پیچھے رہ جانے والوں کو ایسے صدمے سے دوچار کیا ہے جس کی شدت کا اندازہ جائے وقوعہ پر موجود لوگوں کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے۔

لکڑی استعمال کرنے والا گھر، گیس موجود نہیں تھی

دھماکے کی وجہ کے حوالے سے سلمیٰ بیگم ایک اہم بات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ ان کے مطابق، متاثرہ گھر میں کھانا پکانے اور دیگر ضروریات کے لیے لکڑی استعمال کی جاتی تھی اور وہاں گیس موجود ہی نہیں تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ گھر میں گیس نہ ہونے کے باعث ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ دھماکہ کیسے ہوا۔ تاہم، دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی، یہ جاننے کے لیے متعلقہ حکام کی تحقیقات اور تکنیکی شواہد اہم ہوں گے۔

باغ کے گاؤں بندی میں ہونے والا یہ واقعہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان بن گیا۔ چار افراد کی ہلاکت، ایک زخمی کی حالت اور گھر میں بکھری تباہی کے مناظر اب بھی اس سانحے کی شدت کی گواہی دے رہے ہیں۔

سلمیٰ بیگم کے الفاظ میں اس رات کی سب سے واضح تصویر یہی ہے: دھواں، بکھری لاشیں، ہر طرف خون اور اپنے پیاروں کو اس حال میں دیکھنے کی بے بسی۔

یہ وہ مناظر ہیں جنہیں دیکھنے والی آنکھیں شاید کبھی بھلا نہ سکیں۔

انتباہ: اس فیچر میں شامل اور عینی شاہد نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے بات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ ان کی درخواست اور شناخت کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا چہرہ چھپایا گیا ہے۔ادارہ کاشگل نیوز

Share this content: