تحریر: خواجہ کبیر احمد
کسی بھی ریاست کی ترقی کا اصل پیمانہ حکمرانوں کے بلند و بانگ دعوے، سیاسی تقریریں، سرکاری اعداد و شمار یا اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والی قانون سازی نہیں، بلکہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی بہتری ہوتی ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار اور بنیادی سہولتیں ہر مہذب معاشرے کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ ان کی فراہمی کوئی احسان، خیرات یا سیاسی مہربانی نہیں، بلکہ ریاستی نظام کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب کسی ریاست کے عوام علاج اور تعلیم کے لیے پریشان ہوں، بچے غیر محفوظ عمارتوں یا کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کریں، مریض مناسب طبی سہولتوں سے محروم رہیں اور شہریوں کو اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے بار بار سڑکوں پر نکلنا پڑے تو سوال عوام کی توقعات پر نہیں، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی کارکردگی پر اٹھتا ہے۔ عوامی وسائل سے تنخواہیں، مراعات اور پروٹوکول حاصل کرنے والے حکمرانوں کو بتانا ہوگا کہ انہوں نے عوام کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے کیا کیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے تمام 53 ارکان عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ حکومت میں شامل ارکان ہوں یا حزبِ اختلاف میں بیٹھنے والے نمائندے، سابق وزرا ہوں یا موجودہ حکومتی عہدیدار، کوئی بھی اپنے سیاسی منصب کی آڑ میں احتساب سے بچ نہیں سکتا۔ جو لوگ مختلف وزارتوں پر فائز رہے، جنہوں نے انتظامی فیصلے کیے، بجٹ منظور کیے اور سرکاری منصوبوں کی نگرانی کی، ان سب کی کارکردگی عوام کے سامنے آنی ضروری ہے۔ حکومت میں رہنے والوں کو اپنے فیصلوں اور نتائج کا حساب دینا ہوگا، جبکہ حزبِ اختلاف کے ارکان کو بھی بتانا ہوگا کہ انہوں نے عوامی مسائل اور حکومتی کوتاہیوں پر نگرانی کی اپنی ذمہ داری کس حد تک ادا کی۔ اسمبلی کی رکنیت عوامی سوالات سے بچنے کا پروانہ نہیں، بلکہ عوام کے سامنے جواب دہ ہونے کی ذمہ داری ہے۔
سابقہ حکومتوں میں مختلف وزارتوں پر فائز رہنے والے افراد کی کارکردگی کا غیر جانب دارانہ جائزہ ناگزیر ہے۔ 2021 سے اب تک مختلف ادوار میں وزارتیں سنبھالنے والوں سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے محکموں میں کیا تبدیلیاں لائیں، عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کون سے اقدامات کیے اور ریاستی خزانے سے خرچ ہونے والی رقوم کے بدلے عوام کو کیا سہولتیں فراہم ہوئیں۔ سابق وزیر یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری سے نہیں بچ سکتا کہ اب وہ وزارت میں نہیں، جبکہ موجودہ وزیر سابقہ حکومتوں کی ناکامیوں کو اپنی کارکردگی کا جواز نہیں بنا سکتا۔ جو افراد ماضی میں حکومت کا حصہ رہے اور آج دوبارہ اقتدار میں شریک ہیں، ان کے سابقہ دور کے فیصلے اور کارکردگی بھی احتساب کے دائرے میں آئیں گے۔ حکومتیں بدلنے سے نہ عوام کے مسائل ختم ہوتے ہیں، نہ سابقہ حکمرانوں کی ذمہ داریاں مٹتی ہیں۔
یہ احتساب کسی ایک وزارت یا چند سیاسی شخصیات تک محدود نہیں۔ مالیات، صحت، تعلیم، تعمیراتِ عامہ، توانائی، بجلی و پانی، زراعت، جنگلات، سیاحت، بلدیاتی نظام، منصوبہ بندی، مواصلات، خوراک، صنعت و تجارت اور دیگر تمام محکموں کی کارکردگی سامنے لانا ہوگی۔ ہر وزارت کے بجٹ، منصوبوں، اخراجات اور عملی نتائج کا حساب عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ کتنی رقم مختص ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، کتنے منصوبے مکمل ہوئے اور عام شہری کو ان سے کیا فائدہ پہنچا؟ اگر کوئی منصوبہ برسوں سے نامکمل ہے تو تاخیر کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر سرکاری ادارے مطلوبہ نتائج نہیں دے رہے تو ان کی نگرانی کرنے والوں نے کیا اقدامات کیے؟ سرکاری اجلاسوں، فائلوں اور افتتاحی تقریبات کو کامیابی قرار دینے کے بجائے عوامی زندگی میں آنے والی حقیقی تبدیلی کو کارکردگی کا معیار بنایا جائے۔
صحت اور تعلیم کسی بھی ریاست کے بنیادی ستون ہیں۔ ان شعبوں کی حالت کسی حکومت کی ترجیحات، انتظامی صلاحیت اور عوامی ذمہ داری کا واضح آئینہ ہوتی ہے۔ اگر ہسپتالوں میں ضروری طبی آلات، تشخیصی سہولتوں اور ادویات کی کمی ہو، مریض علاج کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کریں، غریب خاندان نجی علاج کے اخراجات برداشت نہ کرسکیں اور ادویات کے معیار کی نگرانی مؤثر نہ ہو تو یہ محض چند انتظامی مشکلات نہیں، بلکہ نظامِ صحت کی کارکردگی پر سنگین سوالات ہیں۔ سابق وزرائے صحت سے ان کے دور کی کارکردگی کا حساب لیا جائے اور موجودہ وزیر سے موجودہ صورتِ حال اور اصلاحات کے نتائج کے بارے میں جواب طلب کیا جائے۔ ہسپتالوں کی سہولتوں، طبی عملے کی دستیابی، ادویات کی خریداری، معیار کی نگرانی اور دور دراز علاقوں میں علاج کی صورتِ حال کی شفاف جانچ کی جائے۔ انسانی زندگیوں سے متعلق معاملات کو سیاسی وضاحتوں اور رسمی بیانات کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔
صحت کی وزارت کسی سیاسی جماعت، گروہ یا فرد کو نوازنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ انسانی جانوں سے براہِ راست تعلق رکھنے والا انتہائی حساس محکمہ ہے، جس کی سربراہی کے لیے متعلقہ شعبے کی سمجھ بوجھ، انتظامی صلاحیت اور ماہرین کے ساتھ کام کرنے کی اہلیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی شخص کا متبادل طریقۂ علاج یا روایتی طب میں معالج ہونا اپنی جگہ ایک مخصوص علمی اور عملی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس بنیاد پر اسے پورے جدید نظامِ صحت کی انتظامی سربراہی کے لیے موزوں قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر کسی ایسے شخص کو وزیرِ صحت مقرر کردیا جائے جس کے پاس صحتِ عامہ، ہسپتالوں کے انتظام، طبی خدمات اور متعلقہ اداروں کی نگرانی کے بنیادی تقاضوں کو سمجھنے کی مطلوبہ صلاحیت نہ ہو تو یہ سیاسی تقرری سے بڑھ کر انسانی جانوں اور عوامی وسائل کے تحفظ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ہر وزیر کا ڈاکٹر ہونا ضروری نہیں، لیکن متعلقہ شعبے کی سمجھ، اہل ماہرین کی رہنمائی سے فیصلے کرنے کی صلاحیت اور انتظامی ذمہ داری اٹھانے کی اہلیت لازمی ہے۔ انسانی جانوں سے متعلق وزارت کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا ناقابلِ قبول ہے۔
تعلیم کے شعبے کی صورتِ حال بھی اسی سنجیدہ احتساب کا تقاضا کرتی ہے۔ ریاست کے مستقبل کا انحصار بچوں کی تعلیم، تربیت اور ذہنی نشوونما پر ہوتا ہے۔ اگر زلزلے سے متاثرہ تعلیمی عمارتیں برسوں گزرنے کے باوجود تعمیرِ نو کی منتظر رہیں، بچے عارضی چھتوں یا کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کریں، بچیاں مناسب فرنیچر کے بغیر پتھروں پر بیٹھنے پر مجبور ہوں اور اسکولوں میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہ ہوں تو متعلقہ حکام کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ سابق وزرائے تعلیم سے پوچھا جائے کہ ان کے ادوار میں اسکولوں کی تعمیرِ نو، عمارتوں کی حفاظت، اساتذہ کی دستیابی اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے۔ موجودہ وزیر اور محکمہ جاتی حکام بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں۔ متاثرہ اسکولوں، تعمیراتی منصوبوں، مختص بجٹ اور اخراجات کا ریکارڈ عوام کے سامنے لایا جائے اور واضح کیا جائے کہ بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے میں تاخیر کیوں ہوئی۔
شرحِ خواندگی یا تعلیمی اداروں میں داخلوں کے اعداد و شمار اپنی جگہ، لیکن محض داخلوں کی تعداد کو تعلیمی کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بچے محفوظ عمارتوں میں پڑھ رہے ہیں یا نہیں، اساتذہ دستیاب ہیں یا نہیں، تدریس کا معیار کیا ہے، ضروری سہولتیں موجود ہیں یا نہیں اور غریب خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع حاصل ہیں یا نہیں۔ اگر بااثر طبقے کے بچے نجی اداروں یا بیرونِ ملک بہتر تعلیمی مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہوں، جبکہ عام خاندانوں کے بچے بنیادی سہولتوں کے لیے ترسیں تو ریاستی ترجیحات پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ مسئلہ کسی کے بچوں کے نجی اداروں میں پڑھنے کا نہیں، بلکہ اس تضاد کا ہے کہ سرکاری نظام پر انحصار کرنے والے بچوں کو بھی محفوظ ماحول، معیاری تعلیم اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع میسر نہیں۔ تعلیم کسی مخصوص طبقے کی آسائش نہیں، ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔
یہی وہ بنیادی سوال ہے جو ریاست کے پورے انتظامی ڈھانچے کے سامنے کھڑا ہے۔ عوامی وسائل سے چلنے والے ادارے اگر عوام کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کرتے تو ان کی کارکردگی کی جانچ ناگزیر ہوجاتی ہے۔ وزارتیں سیاسی وفاداریوں، جماعتی مفاہمتوں یا ذاتی تعلقات کے انعام کے طور پر تقسیم کرنے کی روش نے حکمرانی کے معیار پر سوالات پیدا کیے ہیں۔ وزیر کا منصب محض سیاسی حیثیت بڑھانے یا اقتدار میں شراکت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ عوامی خدمت کی امانت ہے۔ ہر وزیر کو اپنے محکمے کے مسائل سمجھنے، ترجیحات متعین کرنے، بجٹ کا مؤثر استعمال یقینی بنانے، اداروں کی نگرانی کرنے اور نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے کی صلاحیت رکھنی ہوگی۔ اگر کسی وزارت میں مسائل برقرار رہیں اور عوامی وسائل خرچ ہونے کے باوجود نتائج سامنے نہ آئیں تو متعلقہ وزیر کو اپنی کارکردگی کی وضاحت دینا ہوگی۔ جہاں غفلت یا بدعنوانی ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام ریاست جموں کشمیر میں حکمران اشرافیہ کی مراعات اور عوام کی بنیادی مشکلات کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد بھی سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ جب عوام کے لیے علاج، تعلیم اور روزمرہ کی سہولتیں ایک مشکل بن جائیں، لیکن اقتدار کے ایوانوں میں تنخواہوں، مراعات، پروٹوکول اور سیاسی مفادات کے تحفظ پر توجہ برقرار رہے تو عوام یہ سوال ضرور کریں گے کہ ریاستی نظام کی اصل ترجیح کون ہے۔ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے اور عوامی وسائل سے چلنے والے ادارے عوام ہی کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر عام شہری کو بنیادی حقوق حاصل نہ ہوں اور حکمران طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف دکھائی دے تو اس طرزِ حکمرانی کا جواب دینا ہوگا۔ عوامی خدمت کو سیاسی نعروں سے نہیں، عملی نتائج سے ثابت کرنا ہوگا۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے جاری عوامی حقوق کی تحریک نے اسی بنیادی تضاد کو نمایاں کیا ہے۔ تین سال سے زائد عرصے پر محیط اس تحریک نے عوامی مسائل کو محض انفرادی شکایات کے بجائے بنیادی حقوق اور جواب دہ حکمرانی کے سوال کے طور پر سامنے لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ صحت، تعلیم، بجلی، بنیادی سہولتوں، عوامی وسائل پر حق اور حکمرانی میں عوامی اختیار جیسے معاملات اس تحریک کے نمایاں مطالبات میں شامل ہیں۔ اس جدوجہد نے واضح کیا ہے کہ عوام اپنے حقوق کو کسی حکمران کی مہربانی یا سیاسی جماعت کے احسان کے طور پر قبول کرنے کے پابند نہیں۔ بنیادی سہولتیں عوام کا حق ہیں، اور ان کی فراہمی ریاستی ذمہ داری ہے۔
اس تحریک کی ایک اہم کامیابی عوام میں سوال کرنے اور اپنے حقوق پہچاننے کے شعور کو تقویت دینا ہے۔ اب لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ ان کے علاقوں میں ہسپتالوں کی حالت کیوں نہیں بدلی، اسکولوں کی عمارتیں کیوں نامکمل ہیں، بنیادی سہولتوں کے منصوبے کیوں تاخیر کا شکار ہیں، سرکاری وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں اور منتخب نمائندے اپنی ذمہ داریوں کا حساب کب دیں گے۔ یہ سوالات کسی ایک جماعت یا فرد کے خلاف ذاتی مہم نہیں، بلکہ پورے نظامِ حکمرانی کے لیے عوامی احتساب کا تقاضا ہیں۔ طویل عرصے سے عوامی مسائل کے گرد قائم خاموشی اور بے بسی کی کیفیت کو توڑنے میں اس تحریک کا کردار اہم ہے۔ اب حکمرانوں کے لیے عوامی سوالات کو نظرانداز کرنا یا انہیں سیاسی مخالفت قرار دے کر رد کرنا آسان نہیں رہا۔
اس عوامی بیداری کا دائرہ نئی نسل، نوجوانوں اور طلبہ تک بھی پھیل چکا ہے۔ جو نسل اپنے مستقبل کے بارے میں سوال کرتی ہے، اسے خاموش کرانے کے بجائے جواب دینا ہوتا ہے۔ عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ ان کے نام پر کیے گئے فیصلوں کا فائدہ کس کو پہنچا، ریاستی خزانے سے خرچ ہونے والی رقم کے نتائج کیا نکلے اور منتخب نمائندوں نے اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کیں۔ عوامی شعور کو جماعتی مفادات یا سیاسی مصلحتوں کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ یہی شعور ریاست میں شفافیت، بہتر حکمرانی اور حقیقی جواب دہی کی بنیاد بنتا ہے۔
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران کی ذمہ داری بھی اسی تناظر میں اہم ہے۔ عوامی مسائل اور بنیادی حقوق کے مطالبات پر ان کا مشترکہ مؤقف تحریک کی قوت ہے۔ اس جدوجہد کا مقصد کسی فرد یا گروہ کی سیاسی برتری نہیں، بلکہ عوامی مطالبات کی تکمیل اور ایسے نظام کی تشکیل ہے جس کا فائدہ عام شہری کو پہنچے۔ عوام نے اس تحریک سے جو امیدیں وابستہ کی ہیں، ان کے پیشِ نظر مطالبات کی پیش رفت پر مسلسل نظر رکھنا، حکومتی وعدوں اور عملی اقدامات کا موازنہ کرنا، عوام کو مستند معلومات فراہم کرنا اور معاہدوں پر عمل درآمد کی جانچ کرنا ضروری ہے۔ محض اعلان یا وعدہ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا؛ اصل اہمیت اس نتیجے کی ہے جو عوام کی زندگیوں میں بہتری لائے۔ عوامی اعتماد کی حفاظت اصولی مؤقف، اجتماعی یکجہتی اور مسلسل جواب دہی سے ہی ممکن ہے۔
اوورسیز کشمیریوں نے بھی ریاست میں جاری عوامی حقوق کی تحریک کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا ہے۔ بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کی حمایت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ ریاست کے عوام کے بنیادی حقوق کا سوال جغرافیائی حدود تک محدود نہیں۔ اس حمایت کو برادری، جماعت، علاقے یا شخصی تعلقات کی سیاست میں تقسیم کرنے کے بجائے عوامی مفاد کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ سابق اور موجودہ حکمرانوں کی کارکردگی پر مستند معلومات کی بنیاد پر سوال اٹھانا، ریاست کے عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور بنیادی حقوق کے مطالبات کو متعلقہ اداروں تک پہنچانا اس جدوجہد کا حصہ ہے۔ کسی سیاسی شخصیت کی تشہیر سے زیادہ اہم عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی اور ذمہ داران سے جواب طلبی ہے۔
اب ریاست کے سیاسی طبقے کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عوامی شعور میں اضافہ ہوچکا ہے اور نمائندگی کے روایتی دعووں کو عملی کارکردگی کے پیمانے پر پرکھا جارہا ہے۔ عوام کے ووٹ سے ایوانوں تک پہنچنے والے نمائندوں کا منصب عوام کی امانت ہے۔ وزارتوں میں رہنے والوں کو اپنے فیصلوں اور کارکردگی کا حساب دینا ہوگا، موجودہ حکمرانوں کو مسائل کے حل کے لیے واضح اقدامات اور قابلِ پیمائش نتائج پیش کرنے ہوں گے، جبکہ حزبِ اختلاف کو مؤثر نگرانی اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا عملی ثبوت دینا ہوگا۔ عوام کے حقوق کو جماعتی مفادات پر قربان کرنے یا حکومتی ناکامیوں کو سیاسی نعروں کے پیچھے چھپانے کی روش اب قابلِ قبول نہیں رہ سکتی۔
ریاست جموں کشمیر کے عوام کو ایسے ہسپتال درکار ہیں جہاں مناسب علاج میسر ہو، ایسے اسکول جہاں بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کریں، ایسا انتظامی نظام جہاں شہریوں کو اپنے جائز کاموں کے لیے ذلت اور بے بسی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور ایسی حکمرانی جہاں عوامی وسائل کے استعمال کا شفاف حساب دستیاب ہو۔ عوام کو بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے ہر بار احتجاج پر مجبور ہونا کسی حکومت کی کامیابی نہیں۔ عوامی مسائل حل کرنا اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کا ثبوت عملی نتائج کی صورت میں سامنے آنا چاہیے۔ جہاں نتائج موجود نہیں، وہاں جواب دہی بھی لازم ہے۔
اسمبلی کے ایوانوں سے وزارتوں تک ہر ذمہ دار شخص کو عوام کے سامنے اپنی کارکردگی کا حساب پیش کرنا ہوگا۔ سابقہ حکومتوں کی وزارتوں کی ناکامیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، بالخصوص صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ذمہ داری متعین ہو، تمام محکموں کے بجٹ اور عملی نتائج کی جانچ کی جائے اور جہاں غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آئندہ وزارتوں کی تقسیم میں سیاسی وفاداری اور شخصی تعلقات کے بجائے متعلقہ اہلیت، انتظامی صلاحیت اور شعبے کی سمجھ بوجھ کو بنیادی معیار بنانا ہوگا۔ انسانی جانوں اور بچوں کے مستقبل سے متعلق وزارتوں کو نااہل سیاسی تقرریوں کے حوالے کرنے کی روش ختم کرنا ہوگی۔
عہدے کسی کو احتساب سے بالاتر نہیں کرتے، اقتدار کسی کو جواب دہی سے آزاد نہیں کرتا اور سیاسی وابستگی عوامی حقوق سے بڑی نہیں ہوسکتی۔ عوامی نمائندگی کا ثبوت مراعات، پروٹوکول یا اقتدار میں طویل قیام نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی بہتری ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے پیدا ہونے والے عوامی شعور نے سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے۔ یہ شعور مزید مضبوط ہوگا، عوامی نمائندوں کی کارکردگی مسلسل جانچی جائے گی اور ہر ذمہ دار سے اس کے دورِ اقتدار کا حساب طلب کیا جائے گا۔ اب ریاست کی سیاست میں اصل معیار دعوے نہیں، نتائج ہوں گے؛ اصل پہچان عہدہ نہیں، کارکردگی ہوگی؛ اور عوامی اعتماد کا فیصلہ تقریروں سے نہیں، لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی حقیقی تبدیلی سے ہوگا۔
٭٭٭
Share this content:


