تحریر: محمد خورشید بیگ
کاش دنیا ہمارے درد کو سمجھ سکتی! کاش کوئی ہماری آنکھوں میں اتر کر ان آنسوؤں کو دیکھ سکتا جو برسوں سے پلکوں کے پیچھے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ کاش کوئی ہمارے سینوں میں سلگتی اس آگ کو محسوس کر سکتا جس نے ہماری روحوں تک کو زخمی کر رکھا ہے۔ یقین جانیے، آج دل صرف اداس نہیں بلکہ چھلنی ہے، روح بے چین ہے اور احساسات کا سمندر سینے میں طوفان برپا کیے ہوئے ہے۔ ہم کشمیری بھی عجیب بدنصیب لوگ ہیں؛ ہماری دھرتی ایک ہے، ہماری مٹی ایک ہے، ہمارے دریاؤں کا پانی ایک ہے، ہمارے پہاڑ، ہماری وادیاں، ہماری زبانیں، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، مگر ہمارے درمیان ایک ایسی خونی لکیر کھینچ دی گئی جس نے ہمیں اپنے ہی خاندانوں، اپنے ہی رشتوں اور اپنی ہی دھرتی کے دوسرے حصوں سے جدا کر دیا۔ گزشتہ 78 برسوں سے ہم ریاست جموں و کشمیر کے ان علاقوں میں آزادانہ آ جا نہیں سکتے جہاں کبھی ہمارے بزرگوں کے رشتے تھے، جہاں ہماری تہذیبی وابستگیاں تھیں، اور جہاں ہماری زمین، ہماری تاریخ اور ہماری شناخت کے نقوش موجود ہیں۔
ایک خونی لکیر نے بھائی کو بھائی سے، ماں کو بیٹے سے اور خاندان کو خاندان سے جدا کر رکھا ہے۔ کسی کی بہن دوسری طرف رہ گئی ہے، کسی کا بھائی اس پار بچھڑ گیا ہے، کسی کے بزرگ اپنی جنم بھومی کی مٹی کو دوبارہ چھوئے بغیر دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ کتنی ہی نسلیں اپنے پیاروں سے ملنے کی حسرت لیے بوڑھی ہو گئی ہیں، اور کتنی ہی ماؤں کی آنکھیں اپنے بچوں کی راہ دیکھتے دیکھتے پتھر ہو گئی ہیں! مگر ہماری محرومی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ اب تو المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ہی دھرتی پر، اپنے ہی شہر میں اجنبی بنا دیے گئے ہیں۔ ہمارا پیارا شہرِ الفت راولاکوٹ، جس کی فضاؤں میں ہم نے آنکھ کھولی، جس کی گلیوں میں ہمارا بچپن گزرا، جس کے بازاروں میں ہماری زندگی کی رونقیں آباد تھیں، اور جس کے پہاڑوں سے ہماری محبت کی داستانیں وابستہ ہیں، آج اسی راولاکوٹ میں ہم نہیں جا سکتے۔ ہم آزادانہ سانس لینے اور معمول کی زندگی گزارنے سے محروم ہیں۔
ساڑھے چار ماہ سے کرفیو اور بندشوں نے شہر کی زندگی کو جکڑ رکھا ہے، اور یہاں پاکستانی فورسز کا قبضہ ہے۔ پاکستانی فورسز کی بھاری موجودگی اور کنٹرول نے شہریوں میں اپنے ہی شہر میں محصور اور بے اختیار ہونے کا احساس پیدا کر دیا ہے۔ ذرا سوچیے! یہ کیسا المیہ ہے کہ دنیا بھر سے سیاح ریاست جموں و کشمیر کی خوبصورت وادیوں، برف پوش پہاڑوں، جھیلوں، دریاؤں اور سرسبز میدانوں کو دیکھنے آتے ہیں۔ کوئی یورپ سے آتا ہے، کوئی امریکہ سے، کوئی عرب ممالک سے، اور کوئی ایشیا کے دور دراز خطوں سے۔ سیاحوں کے لیے ہمارے پہاڑوں کے دروازے کھلے ہیں، مگر ہم اپنی ہی ریاست کے دوسرے حصوں میں جانے سے محروم ہیں، اور اب تو اپنے شہر راولاکوٹ میں بھی آزادانہ نقل و حرکت ہمارے لیے ایک خواب بن چکی ہے۔ آخر کیوں؟
کیا ہم اس دھرتی کے باسی نہیں ہیں؟ کیا اس مٹی سے ہماری محبت کسی دوسرے انسان سے کم ہے؟ کیا ہمارے دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں اور وادیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے؟ کیا اپنے شہر کی گلیوں میں چلنا، اپنے پیاروں سے ملنا، اپنے بچوں کو اسکول بھیجنا، کاروبار کرنا اور خوف کے بغیر زندگی گزارنا کوئی غیر معمولی مطالبہ ہے؟
ہم دنیا سے کوئی محل نہیں مانگتے، کوئی تخت و تاج نہیں مانگتے؛ ہم صرف اپنی دھرتی پر جینے کا حق مانگتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوف کے سائے میں نہیں بلکہ امن کی فضاؤں میں پروان چڑھیں، ہمارے بازار آباد ہوں، ہمارے اسکول کھلیں، ہمارے اسپتال معمول کے مطابق کام کریں، ہمارے بزرگ سکون سے گھروں سے باہر نکل سکیں، اور ہماری مائیں ہر دستک پر کسی بری خبر کے خوف سے لرزنے کے بجائے اطمینان سے زندگی گزار سکیں۔
کیا یہ بہت بڑی خواہش ہے؟ آج راولاکوٹ کی خاموش گلیاں ہم سے سوال کرتی ہیں، ویران بازار ہماری بے بسی کی داستان سناتے ہیں، اور بند دروازے ہماری محرومی کا نوحہ پڑھتے ہیں۔ ان گلیوں میں کبھی زندگی مسکراتی تھی، بچوں کی آوازیں گونجتی تھیں، دکانوں پر رونق ہوتی تھی، اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ آج اسی شہر کے باسی اپنے ہی شہر کی خبر لینے کے لیے بے چین ہیں؛ کسی کو اپنے عزیز کی فکر ہے، کسی کو اپنے کاروبار کی، کسی کو اپنے بچوں کے مستقبل کی، اور کسی کو اس سوال نے بے چین کر رکھا ہے کہ آخر ہماری زندگیوں سے معمول کی خوشیاں کب واپس آئیں گی؟
دنیا کے ایوانوں میں انسانی حقوق، آزادی، امن اور انسانی وقار کے بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ عالمی ادارے انسانی حقوق کے تحفظ کے منشور پڑھتے ہیں، کانفرنسیں ہوتی ہیں، اور قراردادیں منظور کی جاتی ہیں، مگر کیا ان الفاظ کی کوئی اہمیت اس وقت بھی باقی رہتی ہے جب ایک انسان اپنے ہی شہر میں آزادانہ نقل و حرکت سے محروم ہو؟ کیا انسانی حقوق صرف طاقتور اقوام کے لیے ہیں؟ کیا ایک کشمیری ماں کا آنسو، ایک بچے کا خوف، ایک مزدور کی بے روزگاری اور ایک دکاندار کی اجڑی ہوئی دکان عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں ہے؟ ہماری آواز شاید دنیا کے بڑے ایوانوں تک نہیں پہنچتی، مگر ہمارا درد حقیقی ہے۔ ہماری آنکھوں کے آنسو کسی سیاسی نعرے کا حصہ نہیں، ہماری محرومیاں کسی تحریری معاہدے کے الفاظ نہیں، بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقتیں ہیں۔
میں آج ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک کشمیری کی حیثیت سے دنیا سے مخاطب ہوں۔ میرا دل گھبرا رہا ہے، میرے احساسات زخمی ہیں؛ جب اپنی دھرتی کے بچھڑے ہوئے حصوں کا خیال آتا ہے تو دل دکھتا ہے، اور جب اپنے ہی شہر راولاکوٹ کی بند گلیوں، ویران بازاروں اور محصور لوگوں کا تصور کرتا ہوں تو یہ درد ناقابلِ بیان ہو جاتا ہے۔ آخر ہماری خطا کیا ہے؟ کیا اپنی دھرتی سے محبت کرنا، اپنے حقوق کی بات کرنا، اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا، یا یہ خواہش رکھنا ہماری خطا ہے کہ ہم بھی دنیا کے دوسرے انسانوں کی طرح عزت، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں؟
اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی یونین اور دنیا کے تمام باشعور انسانوں سے ہماری اپیل ہے کہ ہماری آواز سنیں۔ کشمیر کو صرف نقشوں، سرحدوں اور سیاسی مفادات کی عینک سے نہ دیکھیں؛ یہاں انسان بستے ہیں، مائیں ہیں، بچے ہیں، بہنیں ہیں، بزرگ ہیں، خواب ہیں، رشتے ہیں اور ایک ایسی قوم ہے جو کئی دہائیوں سے اپنے بچھڑے ہوئے وطن اور معمول کی انسانی زندگی کی آرزو لیے بیٹھی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر کے تمام حصوں کے لوگوں کو آزادانہ آمدورفت کا حق ملے، تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ہو، راولاکوٹ سے کرفیو اور تمام غیر ضروری پابندیاں ختم ہوں، اور لوگوں کو خوف و جبر کے بجائے امن، عزت اور آزادی کے ساتھ جینے کا موقع دیا جائے۔
کاش کوئی ہماری طرف بھی دیکھے! کاش کوئی ہمارے درد کی زبان سمجھ سکے۔ کاش دنیا کے ضمیر پر دستک دینے والی ہماری یہ صدا کہیں سن لی جائے۔ ہمیں اپنی دھرتی سے محبت ہے، اپنے پہاڑوں سے عشق ہے، اپنے دریاؤں سے پیار ہے، اور اپنی وادیوں سے وابستگی ہے۔ ہم اپنے وطن کی مٹی سے جدا ہو کر کیسے جی سکتے ہیں؟
ہمیں صرف اتنا بتا دیا جائے کہ آخر ہم اپنی ہی دھرتی پر اجنبی کیوں ہیں؟ آج دل کی گہرائیوں سے بس یہی صدا نکلتی ہے؛ کاش دنیا ہمارے درد کو سمجھ سکے، اس سے پہلے کہ ہماری آنکھوں کے آنسو خشک ہو جائیں، ہمارے خواب مر جائیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی محرومی کو اپنی قسمت سمجھ کر جینے لگیں۔ ہمیں جنگ نہیں، امن چاہیے؛ نفرت نہیں، محبت چاہیے؛ پابندیاں نہیں، آزادی چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر اپنی دھرتی پر باوقار زندگی گزارنے کا حق چاہیے۔ ہم کشمیری ہیں؛ ہماری دھرتی ایک ہے، ہمارا درد ایک ہے، اور ہماری آرزو بھی ایک ہے کہ ہمیں اپنے وطن میں آزادی، امن اور انسانی وقار کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔
٭٭٭
Share this content:


