پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں پانچ ماہ سے جاری احتجاجی دھرنوں کے شرکا نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے عمر فاروق چوک میں موجود پُرامن اور نہتے مظاہرین پر حملہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع اور احتجاجی شرکا کے مطابق فورسز کی جانب سے کارروائی کے دوران بھاری ہتھیاروں اور ہیوی مشین گنوں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں درجنوں نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مظاہرین کے مطابق فورسز نے راولاکوٹ کے بس ٹرمینل میں قائم دھرنے پر بھی قبضہ کر لیا ہے، جبکہ احتجاجی مقام پر موجود افراد کو وہاں سے ہٹایا گیا ہے۔
احتجاجی شرکا کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں پُرامن دھرنا دیے ہوئے تھے اور ان کے خلاف طاقت کا استعمال صورتحال کو مزید کشیدہ کر سکتا ہے۔
واقعے کے بعد راولاکوٹ میں صورتحال کشیدہ بتائی جا رہی ہے، جبکہ زخمی ہونے والے افراد کی تعداد اور ان کی حالت سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
نوٹ: فورسز کی جانب سے کارروائی، بھاری ہتھیاروں کے استعمال، زخمیوں کی تعداد اور بس ٹرمینل پر قبضے کے الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔تاہم ایک گھر پر مبینہ ڈرون حملے کی اطلاعات ہیں جس کی تصدیق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما عمر نذیر کشمیری کی ہے ۔جس میں ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔
Share this content:


