پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کے مطالبے پر جاری عوامی احتجاج اور دھرنوں کو کچلنے کے لیے ریاستی جبر نئی اور خطرناک حدوں کو چھونے لگا ہے۔ 5 نومبر کو راولاکوٹ کے علاقے میں متیالمرہ بس ٹرمینل کے قریب ایک رہائشی گھر پر پاکستانی فورسز کی جانب سے مبینہ ڈرون حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اس خوفناک حملے میں گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
موقع پر موجود عینی شاہدین اور مقامی عوام نے ویڈیو بیانات میں اس بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ صبح سویرے تقریباً چھ بجے شدید فائرنگ اور ڈرون کے ذریعے بم دھماکہ کیا گیا۔
عوام کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ کے اندرونی اور گردونواح کے علاقوں میں فورسز کی ہیوی گنز اور طاقت کا استعمال روز کا معمول بن چکا ہے۔
مشتعل عوام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کے پاس ایٹمی طاقت اور جدید ہتھیار موجود ہیں، تو کیا اس کا مقصد کشمیر میں نہتے اور پرامن عوام پر آئے روز بم برسانا اور خون کی ہولی کھیلنا ہے؟
عوام نے سوال اٹھایا ہے کہ حکمران اور مظفرآباد میں بیٹھی ریاستی مشینری اس سفاکانہ حملے کی ذمہ داری قبول کرے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو فوری یقینی بنائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی کا نہیں بلکہ جواب دہی کا وقت ہے۔
واضح رہے کہ مقبوضہ خطے میں ریاستی جارحیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے؛ محض ایک ہفتہ قبل بھی پاکستانی فورسز کی جانب سے ایک گھر پر کیے گئے بم حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
کشمیری عوام نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم پر پاکستان کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
Share this content:


