دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 2026 میں بڑھ کر 6.3 ارب تک پہنچ گئی ہے، جو دنیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 76 فیصد بنتی ہے۔ تاہم دنیا میں اب بھی تقریباً دو ارب افراد ایسے ہیں جنہیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔
انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 6.1 ارب تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 6.3 ارب ہوگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ تک رسائی کے معاملے میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ زیادہ آمدنی والے ممالک میں 93 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں یہ شرح صرف 32 فیصد ہے۔
اسی طرح انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق بھی برقرار ہے۔ دنیا بھر میں 79 فیصد مردوں کے مقابلے میں 74 فیصد خواتین انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں، جبکہ شہری علاقوں میں انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح 82 فیصد اور دیہی علاقوں میں 63 فیصد ہے۔
رپورٹ کے مطابق دنیا کی 59 فیصد آبادی کو موبائل نیٹ ورک کی سہولت حاصل ہے۔ تاہم اس حوالے سے بھی امیر اور کم آمدنی والے ممالک کے درمیان بڑا فرق موجود ہے۔ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح 86 فیصد جبکہ کم آمدنی والے ممالک میں صرف چار فیصد ہے۔
انٹرنیٹ تک رسائی کے علاوہ اس کی قیمت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 30 فیصد ممالک میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی قیمتیں مقررہ معیار کے مطابق قابلِ برداشت نہیں ہیں۔
ایک ایسے وقت میں جب دنیا ڈیجیٹل رابطوں اور انٹرنیٹ تک رسائی میں مسلسل ترقی کر رہی ہے، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کا ایک خطہ گزشتہ چار ماہ سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ کی بندش کا سامنا کر رہا ہے۔
یہاں حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی کے باعث شہریوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار، صحافت اور بیرونی دنیا سے رابطوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش ایسے وقت میں جاری ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل سہولیات تک رسائی کو بنیادی ترقیاتی ضرورت سمجھا جا رہا ہے اور اربوں افراد انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم، معلومات اور معاشی مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
یوں ایک طرف دنیا انٹرنیٹ صارفین کی تعداد میں اضافے کو ترقی کے طور پر دیکھ رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہری کئی ماہ سے اس بنیادی ڈیجیٹل سہولت سے محروم ہیں۔
Share this content:


