انسانی حقوق تنظیموں کا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی فوری رہائی کا مطالبہ

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق، وکلا اور آزادیِ اظہار کے لیے کام کرنے والی 23 تنظیموں نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ’فوری اور غیر مشروط‘ طور پر رہا کیا جائے۔

ان تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں کے خلاف عائد سزاؤں کو کالعدم قرار دینے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

29 اکتوبر کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سکیورٹی خلاف ورزی کے مقدمے میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 186، جو سرکاری اہلکار کے کام میں مداخلت سے متعلق ہے، کے تحت بھی دونوں کو ایک، ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

بین الاقوامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف کارروائی اور سزاؤں پر نظرثانی کی جانی چاہیے اور انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔

تنظیموں نے پاکستانی حکام پر زور دیا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا اور آزادیِ اظہار کے لیے کام کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائیوں میں بنیادی انسانی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے اصولوں کو یقینی بنایا جائے۔

Share this content: